کویت میں غیر ملکیوں کیخلاف متنازع بیانات دینے والی صفاء الہاشم کو انتخابات میں منہ کی کھانا پڑگئی

کویت(نیوز ڈیسک)کویت میں سابق خاتون پارلیمینٹرین صفاء الہاشم اس بار انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کی ہار کی خبر کو تارکین میں بہت خوشی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ صفاء الہاشم تارکین وطن کی سخت مخالف تھیں، اور اکثر بیانات میں مطالبہ کرتی تھیں کہ تارکین کی بڑی گنتی کو مملکت سے نکال دیا جائے۔ ان کے اس بار پارلیمنٹ میں نہ پہنچنے کی خبر پر تارکین بہت خوش ہیں۔صفاء کے کئی متنازعہ بیانات نے انہیں کویت ہی نہیں بلکہ خلیجی خطے میں شہرت دلائی تھی۔رواں سال کے دوران صفاء نے مطالبہ کیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاوٴ کی روشنی میں حکومت فوری

فیصلہ کرتے ہوئے ملک سے غیر ملکیوں کو بے دخل کرے۔ ٹویٹر پر جاری بیان میں صفاء نے کہاتھا کہ "یقینا ان حالات میں زیادہ تر غیر ملکیوں کی موجودگی کویت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ان لوگوں کا ضرر ان کے فائدے سے زیادہ بڑا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ کرونا کی وبا پھیلانے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ لہذا ان غیر ملکیوں کی اپنے وطنوں کو واپسی کرونا وائرس کے خطرے کو روک لگا دے گی اور آبادی کے تناسب کے مسئلے کو بڑی حد تک حل کر دے گی”۔اسی طرح مذکورہ خاتون رکن پارلیمنٹ نے فیس بک پر پوسٹ میں لکھا تھاکہ "ملک میں کرونا وائرس کے کیسوں کی اتنی بڑی تعداد سامنے آنے کے بعد حکومت پر لازم ہے کہ وہ بنا کسی ہچکچاہٹ کے اْن تمام غیر ملکیوں کو بے دخل کرے جو کام نہیں کر رہے ہیں۔یہ افراد Marginal Employment کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کی جانب سے تارکین وطن کے خلاف ایسے بیانات جاری کیے جاتے ہیں ، جن پر نہ صرف تارکین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جاتا تھا بلکہ دُنیا بھر میں بھی انہیں حیرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔گزشتہ سال صفا الہاشم نے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی تھی کہ 40 سال سے زائد عمر کے تارکین وطن کو مملکت سے بے دخل کر دیا جائے۔صفا الہاشم نے کہا کہ خاص طور پر تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے 40 سال سے زائد عمر کے غیر مْلکیوں کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کر کے وطن واپس بھیج دیا جائے۔انہوں نے یہ تجاویز بھی پیش کیں کہ جو غیر ملکی تین ٹریفک خلاف ورزیاں کرے، اسے بھی کویت

سے بے دخل کر دیا جائے۔اس کے علاوہ زیادہ عمر کے تارکین وطن ، بیمار اور معذوری میں مبتلا غیر مْلکیوں کو بھی کویت سے نکال دیا جائے۔صفاء کی ایک تجویز یہ بھی تھی کہ کویت میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں سمیت جن کے اقامے ختم ہیں، اگر ان کو کوئی مقامی شہری کسی قسم کی سہولت دیتا ہے، تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔ صفاء کا موقف تھا کہ تارکین کی بڑی گنتی کی وجہ سے کویتی باشندے اپنے ہی مْلک میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں، جس کے باعث ان کی زبان اور کلچر پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس سے قبل بھی ایک بار صفاء الہاشم نے غیر مْلکیوں

کے ساحلِ سمندر پر نہانے پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی تھی۔ سفاء الہاشم نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ تارکین وطن کی جانب سے عوامی مقامات اور عمارات کو استعمال میں لانے پر اْن سے فیس وصول کرے۔ انہوں نے کویت میں تعمیر کیے گئے دُنیا کے چوتھے طویل ترین پْل شیخ جابر کازوے پر بھی غیر مْلکیوں کی آمد و رفت پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔سفا کا کہنا تھا ”میں نے کئی بار خبردار کیا ہے اور اب بھی کر رہی ہوں کہ کویت میں غیر مْلکیوں کی تعداد تیس لاکھ جبکہ مقامی باشندوں کی گنتی 10 لاکھ سے زائد ہے۔ جو یہاں کے انفراسٹرکچر کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ یہ لوگ عید کی چھْٹیوں میں پارکوں اور ساحلی مقامات کا رْخ کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ کی بڑی مقدار اکٹھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان پر فیس لاگو کی جائے۔ ایک بار تو صفاء نے یہ کہہ کر حد کر دی تھی کہ تارکین وطن کی جانب سے سانس لینے پر بھی ٹیکس نافذ ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں