سوا ارب ڈالرز کریڈٹ کی کہانی ۔۔۔ رئوف کلاسرا

تین ‘چار سال پہلے کی بات ہے‘ وزیراعظم نواز شریف کو بتایا گیا کہ پاکستان عالمی عدالت میں ترکی کی کمپنی کے خلاف مقدمہ ہار چکا ہے اور سوا ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں سوال اٹھایا گیا کہ یہ جرمانہ کیوں ہوا اور کون لوگ سکینڈل میں ملوث تھے ؟ نواز شریف نے سمجھداری کی اور انکوائری کمیٹی بنائی‘ اس کمیٹی میں نیب ‘ فنانس اور آئی ایس آئی کے افسران شامل تھے۔ اس انکوائری کمیٹی نے کام شروع کیا تو حیران کن انکشاف سامنے آئے کہ کیسے پاکستانی حکمرانوں اور سرکاری افسران نے بربادی کی تھی۔ انکوائری میں پتہ چلا کہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو بجلی کا بحران تھا‘فیصلہ کیا گیا کہ کرائے کے بجلی گھروں سے کمی پوری کی جائے۔ راجہ پرویز اشرف نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ سے پالیسی منظور کروائی اور180 ارب روپے رکھے گئے۔ مختلف پارٹیوں کو کہا گیا کہ وہ کرائے کے بجلی گھر لا کر حکومت کو بجلی بیچیں۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سات فیصد ایڈوانس دیں گے۔ اس پالیسی کے تحت ترکی کی کمپنی کارکے نے بھی اپلائی کیا۔ اس کمپنی کو 565 ملین ڈالرز کا کنٹریکٹ دیا گیا جس نے 231 میگا واٹ بجلی پیدا کر کے دینی تھی۔ اس کمپنی نے آزاد کشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین کے بیٹے علی ذوالقرنین کو ”کارکے‘‘ کا پاکستان میں ایک لاکھ ڈالرز تنخواہ پر کنٹری مینجر بنا لیا۔ علی ذوالقرنین کی بیوی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی بیگم صاحبہ کی قریبی رشتہ دار تھیں ۔
کابینہ نے سات فیصد ایڈوانس طے کیا تھا‘کارکے کمپنی کا بڑا کنٹریکٹ تھا؛ تاہم اس کھیل میں شامل حکمرانوں‘ وزیروں اور سرکاری بابوز کی کمپنی سے بات ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ پانچ فیصد کمیشن وہ لیں گے‘ مگر یہ سوچا گیا کہ سات فیصد ایڈوانس سے کس کس کی چونچ گیلی ہو گی‘ لہٰذا یہ طے ہوا کہ ایڈوانس سات فیصد سے چودہ فیصد کر دیا جائے۔ قانونی طور پر چاہیے تھا کہ کابینہ سے اس فیصلے کی منظوری لی جاتی‘ لیکن وزارت خزانہ نے خود سے سات سے چودہ فیصد کر دیا۔ شوکت ترین وزارت خزانہ چلا رہے تھے۔ یوں ترکی کمپنی کو ستر ملین ڈالرز سے زائد کا ایڈوانس حکومت پاکستان نے دیا۔ علی ذوالقرنین نے اب مبینہ طور پر اپنا کام دکھانا شروع کر دیا تھا۔ ان معاہدوں میں ایک شق تھی جس کے تحت ترک کمپنی نے خود ہی ان 565 ملین ڈالرز میں سے فیول خریدنا تھا ‘ اس کلاز کو ہٹا دیا گیا۔ یہ واردات سیکرٹری واٹر اینڈ پاور شاہد رفیع کررہے تھے۔ اس معاہدے میں نئی کلاز ڈلوا دی کہ کمپنی کو تیل بھی حکومت پاکستان خرید کر دے گی۔ اس وقت تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل تھیں یوں 565 ملین ڈالرز اس کمپنی کو ملنے تھے اور تیل بھی حکومت نے خرید کر دینا تھا۔ اس کام کیلئے شاہد رفیع نے چار کروڑ روپے لینے کا اعتراف نیب کے سامنے تحریری طورپر کیا۔ اس دوران حکومت وقت اور بیوروکریسی نے ایک اور کام کیا۔ پہلے یہ معاہدہ ایک پاکستانی پرائیویٹ کمپنی اور ٹرکش کمپنی کے درمیان تھا لیکن راتوں رات حکومتِ پاکستان کو پارٹی بنا کر اس میں حکومت ِپاکستان کی ضمانت ڈال دی گئی۔ یوں ترک کمپنی کو براہ راست حکومت پاکستان کے ساتھ نتھی کر دیا گیا۔ اگر یہ گارنٹی نہ ڈالی جاتی تو پاکستانی حکومت کو عالمی عدالت میں مقدمے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
معاہدے کے مطابق اس کمپنی نے روزانہ 231 میگا واٹ بجلی بنا کر دینا تھی‘سکینڈل اس وقت بنا جب یہ انکشاف ہوا کہ یہ کمپنی صرف 40‘ 50 میگا واٹ پیدا کررہی تھی اور یوں اس بجلی کا ایک یونٹ پاکستان کو چالیس سے پچاس روپے میں پڑ رہا تھا۔ اس پر ترک کمپنی کے بجلی گھر کا رئیلٹی ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے تحت اس بجلی گھر کو سات دن تک مسلسل چلایا جاتا ہے تاکہ دیکھا جائے وہ کتنی بجلی مسلسل پیدا کرتا ہے۔ ہالینڈ کی کمپنی نے وہ ٹیسٹ کیا تو دو تین دن بعد کارکے کا بجلی گھر ٹرپ کر گیا لیکن” کارکے‘‘ کے ساتھ معاہدہ کینسل کرنے کے بجائے بیوروکریسی نے حل نکالا اور پاکستان میں جعلی ریئلٹی ٹیسٹ کا بندوبست کیا۔ جس افسر نے وہ جعلی ٹیسٹ کیا انہیں ترک کمپنی نے باقی مال پانی کے علاوہ تین سونے کے کڑے دیے جو ان صاحب نے اپنے ڈرائیور کی بیٹی کے بینک لاکر میں رکھوائے جو بعد میں نیب نے برآمد کیے۔
شاہد رفیع نے ایک اور کام کیا۔ معاہدے میں یہ بھی لکھوا دیا کہ اگر یہ کمپنی کم بجلی پیدا کرے تو بھی ادائیگی 231 میگا واٹ کے حساب سے ہو گی۔ یوں چالیس میگا واٹ بجلی کے بدلے ادائیگی 231 میگا واٹ کے حساب سے ہو رہی تھی۔ اس پر پہلے خواجہ آصف اور بعد میں فیصل صالح حیات سپریم کورٹ چلے گئے۔ اس پر کمپنی نے کہا کہ ہم اٹھارہ ملین ڈالرز پاکستان کو واپس کرتے ہیں۔ نیب کی کمیٹی بنی جس نے کہا :18 ملین ڈالرز لے کر معاہدہ ختم کرتے ہیں۔ فیصل صالح کا موقف تھا کہ جو کمپنی 160 ملین ڈالرز لے چکی ہے آپ کیسے 18 ملین ڈالرز لے کر چھوڑ رہے ہیں؟ اس پر ایک اور کمیٹی بنی جس نے 125 ملین ڈالرز کا بل کمپنی کو دیا۔ کمپنی نے دینے سے انکار کر دیا اور عالمی عدالت میں کیس کیا۔ اس دوران خفیہ طور پر اس وقت کے نیب افسران نے پیسہ لے کر این او سی دے دیا کہ اس کنٹریکٹ میں کرپشن نہیں ہوئی تھی۔ وہ این او سی لے کر ترک کمپنی نے عالمی عدالت میں کیس کر دیا کہ ہمارا جہاز روکا گیا‘ ہماری ساکھ خراب کی گئی‘ ہمارے ملین آف ڈالرز کا کاروبار خراب کیا گیا۔ کمپنی نے دو ارب ڈالرز جرمانہ مانگا اور مقدمہ جیت لیا ۔
جب نواز شریف کی بنائی گئی کمپنی نے انکوائری شروع کی تو انہوں نے نیب کے ذریعے میوچل لیگل اسسٹنس کے تحت مختلف ملکوں کو خفیہ خطوط لکھے جہاں ترک کمپنی آپریٹ کررہی تھی۔ اس پر انکشاف ہوا کہ کمپنی کے کنٹری منیجر علی ذوالقرنین کی ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنی تھی۔ کارکے کمپنی نے رشوت کے سوا پانچ ملین ڈالرز وہاں جمع کروائے تھے۔ علی ذوالقرنین نے اپنی بھانجی کے خاوند کے ذریعے دبئی میں سوئس بینک میں اکائونٹ کھولا اور ورجن آئی لینڈ کے اکائونٹ سے وہ پیسے دبئی ٹرانسفر ہوتے تھے اور پھر آگے پاکستانی حکمرانوں اور بیوروکریسی کو سوئس اکائونٹس میں ٹرانسفر کیے جاتے تھے۔ حکمرانوں کے علاوہ چار افسران کو ادائیگیاں کی گئی تھیں جن میں سیکرٹری شاہد رفیع بھی شامل تھے جنہوں نے نیب کے ساتھ پلی بارگین میں چار کروڑ روپے لینے کا اعتراف کیا۔
پاکستان نے کرپشن کے سب ثبوت عالمی عدالت میں پیش کیے۔ کمپنی کے سربراہ اورحان نے عدالت میں بیان حلفی دیا کہ ہم نے کنٹریکٹ میرٹ پر لیا تھا رشوت دے کر نہیں‘ لیکن ان دستاویزات سے ثابت ہو گیاکہ معاہدہ ختم ہونے سے پہلے وہ پانچ ملین ڈالرزکی رشوت دے چکے تھے۔ ان ثبوتوں کے بعد ترکوں میں ہلچل مچ گئی کیونکہ نہ صرف جرمانہ ختم ہونا تھا بلکہ کارکے کمپنی نے بلیک لسٹ بھی ہونا تھا۔ الٹا کمپنی پر جرمانہ ہوسکتا تھاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا۔ اس پر صدرطیب اردوان نے پچھلے سال نیویارک میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور کہا: برادر ہم آئوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کیلئے تیار ہیں۔ ٹرکش کمپنی کیلئے فیس سیونگ مانگی گئی۔ عمران خان صاحب کے حکم پر فیس سیونگ کا بندوبست کیا گیا۔ کمپنی کو بلیک لسٹ اور بھاری جرمانوں سے بچالیا گیا‘ سب بدنامی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔ عمران خان نے طیب اردوان کو سب کریڈٹ دے کر کہا: ان کا ہم پر احسان تھا۔ رہا سہا کریڈٹ عمران خان صاحب نے خود ٹویٹ کرکے لے لیا کہ ان کی عظیم کوششوں سے سوا ارب ڈالرز بچ گئے۔ حکمران یہ بھی نہ کرسکے کہ پاکستانیوں کو بتاتے کہ ترک کمپنی نے رشوت دے کر کنٹریکٹ لیا اور الٹا عالمی سطح پر بدنام کیا۔ ہم فاتح ہوکر بھی شکست خوردہ رہے جبکہ ہمارے ترک دوست ہمیں لوٹنے اور بدنام کرنے بعد بھی وکٹری نشان بنا کر الٹا ہم پر احسان کرکے گھر لوٹ گئے۔(بشکریہ روزنامہ دنیا)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.