سمجھوتے کی شادی

پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے گجرات کے چوہدریوں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں بظاہر اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں چوہدری برادران نے وزیر اعظم عمران خان کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہر حال میں حکومت کے ساتھ ہیں اور وزارت اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے بات اگلے انتخابات سے قبل یعنی 2023 میں کریں گے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ خان صاحب کی حکومت ایک سے زیادہ بیساکھیوں کے سہارے قائم ہے۔اگرچہ چوہدری برادران نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ ہماری سیاست آپ کے ساتھ ہے اور شہبازشریف سے بھی ہم نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی کوششیں فسانہ ثابت ہوں گی لیکن پھر بھی حکومتی حلقوں میں تحریک عدم اعتماد کو لے کر پریشانی دکھائی دے رہی ہے۔اس حوالے سے حکومتی اتحادی جماعت (ق) لیگ کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا انکشاف بھی معنی خیز ہے۔ طارق بشیر چیمہ نے اہم’’ انکشاف ‘‘کیا ہے کہ وزیراعظم اور چوہدری برادران ملاقات میں عدم اعتماد ڈسکس ہی نہیں ہوئی،ہم نے حکومت کو حمایت کا کوئی بیان نہیں دیا،پتہ نہیں یہ خبریں کون چلا رہا ہے،یہ بات ہوئی ہی نہیں ہے،ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وزیراعظم تشریف لائے تھے ان کی مہربانی ہے، وہ عیادت کی غرض سے تشریف لائے تھے، انہیں ہم نے خوش آمدید کہا ہے۔طارق بشیر چیمہ نے یہ بھی کہا کہ پتا نہیں یہ تو فواد صاحب بہتر بتاسکتے ہیں کہ کس نے ان کے ساتھ الیکشن لڑنا ہے کس نے نہیں لڑنا، لیکن میرے علم میں یہ بات نہیں ہے ، مجھے یہ نہیں سمجھ آرہی کہ ابھی تو آئندہ الیکشن میں ڈیڑھ سال باقی ہے فواد چوہدری کو اتنی جلدی کیا پڑگئی ہے کہ ہم ساتھ لڑیں گے یا علیحدہ علیحدہ لڑیں گے، ابھی تو یہی فیصلہ نہیں ہوا کہ عدم اعتماد میں ہم نے حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا ان کیخلاف جانا ہے،ابھی تو یہ فیصلہ نہیں ہوا الیکشن تو دورکی بات ہے۔ایک طرف ق لیگ کے مرکزی قائدین وزیر اعظم عمران خان کو ہر طرح سے یقین دہانی کروا رہے ہیں تو دوسری جانب طارق بشیر چیمہ کے بیانات الگ کہانی سنا رہے ہیں۔ دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت ایک سمجھوتے کی شادی کی طرح چل رہی ہے۔
تازہ ترین سیاسی پیش رفت میں وزیر اعظم کا اپنے ناراض ساتھی جہانگیر خان ترین سے قلیل مدت میں دو مرتبہ رابطہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اس پیش رفت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔چند روز قبل تک وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے خاصے پر امید دکھائی دے رہے تھے لیکن گزشتہ تین چار روز سے وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے مسلم لیگ ق کی قیادت سے ملاقات کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے کے رہنمائوں سے بھی جلد ملاقات کا امکان ہے۔ وزیراعظم نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ دورہ لاہور کے دوران وزیراعظم کی پنجاب کے چار ڈویژن کے اراکین پارلیمنٹ سے طویل ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے دورہ لاہور میں بھی وزیراعظم نے ممبران پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر موثر بنانے کیلئے وزیراعظم نے خود رابطوں کا محاذ سنبھال لیا ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی حکومتی مشکلات میں اضافے کا موجب ہے۔ بلاول زرداری نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ ان کے لانگ مارچ کی وجہ سے عمران خان نے عوام کو فوری ریلیف دیا ہے۔ حالانکہ اس ریلیف کی تیاریاں گزشتہ ایک ماہ سے ہو رہی تھیںلیکن چیئرمین پی پی اس معاملے پر پوائنٹ اسکورنگ کر گئے ہیں جو سیاست میں نئی بات نہیں۔
اگر ہم سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ملک کا ہر سیاسی کارکن اور تمام سیاسی جماعتیں 2023کے عام انتخابات کیلئے کمر بستہ ہو چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے لانگ مارچ ، (ن) لیگ و دیگر اپوزیشن جماعتوں کا تحریک عدم اعتماد اور حکومت پر پریشر بڑھانااپنے ورکرز کو جگانے اور عام انتخابات کی تیاری کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میں نے چندر روز قبل اپنے کالم میں بھی ذکر کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو گی۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان ملاقاتیں اور بیانات کا مقصد صرف اپنی اہمیت کو اجاگر کرنا اور آمدہ انتخابات کے بعد ممکنہ حکومت میں بہتر پوزیشن حاصل کرنا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کا موقع نہیں ملا جو عمران خان کے عوام کو بروقت ڈیلیور کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن اب حکومت نے تمام تر معاشی مسائل کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند بات ہے، ایک اور بڑی کامیابی جس پر عوام کے کئی گلے شکوے ختم ہو گئے ہیں وہ خارجہ محاذ پر پاکستان کا کردار ہے اور وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی اب وہی وزیر اعظم کی سیاست سے پریشان ہیں۔ وزیر اعظم کے آنے والے دنوں کے اقدامات عوام کیلئے خوشی نوید ہوں گے اور یہ اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کی دوبارہ حکومت کیلئے راہ ہموار کر سکتے ہیںاور شاید دوسرا موقع عمران خان کیلئے ’’سمجھوتے کی شادی‘‘ نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں