پنجاب میں مثالی ترقیاتی کام، شکریہ عثمان بزدار ۔۔۔ تحریر: رانا اسد منہاس

جب وزیر اعلیٰ پنجاب کا قلمدان عثمان بزدار کے ہاتھ میں تھمایا گیا تو وزیر اعظم عمران خان کو خاصی تنقید کو سامنا کرنا پڑا اور سوشل میڈیا پہ تنز و تشنیع کے نشتر بھی چلائے گے۔ حکومتی مخالفین اور عوام کی اکثریت کا یہ کہنا تھا کہ عثمان بزدار جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے بندے کو اتنے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دینا ایک بیوقوفانہ فیصلہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ساری تنقید کا ڈٹ کا سامنا کیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی وزیر اعظم کے بھرم کو قائم رکھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی حسن طریقے سے انجام دیے اور پنجاب میں ایسے مثالی ترقیاتی کام کیے جو گزشتہ حکومتیں اپنے دس سالہ دور میں بھی نہ کر سکیں۔پنجاب حکومت نے تین سال کے مختصر دورانیے میں بہترین نظم و نسق اور عوامی فلاح و بہبود کےلئے مثالی کام کیے ۔حکومت سنبھالتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ان کاموں کی طرف توجہ دی جو پچھلے کئی سال سے نظرانداز کیے جا رہے تھے۔

تعلیم، صحت، مواصلات، پولیس ریفارمز کے ساتھ ساتھ دیہی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور پنجاب میں موجود پسماندہ علاقوں خاص طور جنوب پنجاب کے پسماندہ اضلاع کی ترقی و خوشحالی کے لیے اقدامات کیے گئے۔اس کے علاوہ کرپشن اور قبضہ مافیا کا خاتمہ، اور خصوصی طور کسانوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے نچلے لیول پر کام کیا گیا اور کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے باقاعدہ طور پر کسان کارڈ جاری کیے گئے۔آن لائن کسان کی بیٹی پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کے تحت دیہی خواتین کو مختلف ہنر سکھا کر معاشی طور مستحکم کرنے میں مدد کی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی برائیوں کے خلاف قوانین بنائے گے اور ان پہ عمل درآمد کر کے اعلیٰ مثال قائم کی۔دی پنجاب پری وینشن آف ہورڈنگ آرڈیننس 2020 منظور کروایا گیا جس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف گھیرہ تنگ کر کے ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو تین سال کی قید اور ضبط کی جانیوالی اشیاء کی 50 فیصد رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کی سزا سنائی گئی جس سے ذخیرہ اندوزی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔پنجاب میں سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس کمپلیکس، اینٹوں کے بھٹوں کی زگ زیک ٹیکنالوجی پر منتقلی، پناہ گاہوں کا قیام، صحت اور تعلیم کے شعبہ میں بہترین اصلاحات عمل میں لائی گئیں۔ پنجاب بھر میں قومی صحت کارڈ سکیم کا اجراء کیا گیا اور مریضوں کو پنجاب بھر کے بڑے ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔پنجاب حکومت نے تین سال میں صحت کے شعبہ کے لیے مجموعی بجٹ میں 118 فیصد اضافہ کیا اور شعبہ صحت کے لیے 369 ارب روپے مختص کیے گئے جس سے صحت کے شعبہ میں مثالی تبدیلی آئی۔

تعلیم کے شعبے میں پنجاب حکومت نے 3 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیوں کا آغاز کیا، پنجاب کے 1200 سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا اور ان میں طلباء کو تمام تر سہولیات فراہم کی گئیں خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ متعدد بڑے سکولوں میں آفٹرنون شفٹ کا آغاز کیا گیا اور اسپیشل بچوں کیلئے نئے سکولز قائم کئے گئے اور دیہاتی علاقوں میں کئی نئے سکولوں کی منظوری دی گئی ۔تعلیم کے شعبہ میں ایک بہت بڑا کام جو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کیا وہ یکساں نظام تعلیم ہے۔ جس کے تحت پورے پاکستان میں یکساں قومی نظام تعلیم کو نافذ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے یکساں نظام تعلیم کے پرائمری سطح پر عمل درآمد کے حوالے سے اساتذہ کی تربیت کے لیے آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کیا اور مائیکروسافٹ کے ساتھ مل کے پنجاب کے سرکاری و نجی سکولوں کے 5 لاکھ اساتذہ کو لائسنسز جاری کیے گئے۔پنجاب کی حکومت کی جانب سے اساتذہ کے لیے ای۔ٹرانسفرز جیسے انقلابی اقدامات کیے گئے جس سے کرپشن میں واضح کمی آئی اور اساتذہ کی مشکلات میں بھی کمی آئی۔

فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے کلین گرین پنجاب مہم کے تحت تین ماں میں پنجاب کے 11 اضلاع کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پہ منتقل کیا گیا اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے بھٹہ مالکان کو 20 لاکھ روپے کا بلا سود قرضہ بھی فراہم کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ماحول خوشگوار اور آلودگی سے پاک بنانے کے لیے شجر کاری مہم کا آغاز کیا گیا۔اس کے علاوہ پنجاب میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے ڈگری کے حامل طلباء کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب میڈیا گریجویٹس پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کے تحت میڈیا گریجویٹس کو ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز حکومت پاکستان کی طرف سے تین ماہ انٹرنشپ کا موقع فراہم کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ طلباء کو 20000 روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں