مشین بازیاں ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

ای وی ایم مشین کے بارے میں ایس کمپین چلائی گئی کہ ہر طرف مشینی ووٹنگ کا طوطی بولنے لگا۔ہر بندہ خواہشمند ہے کہ یہ نظام ملک میں فوری نافظ ہو.۔اس سلسلے میں مشینی ووٹنگ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر ہر گز زور نہیں دیتے کہ آپ ان ناقابل تردید حقائق کو بہرصورت مانیں۔لیکن جاننے اور سیکھینے کی تلقین کرنا نامناسب نہیں۔ عالمی سطح پر دیکھاجائے تو اس وقت پوری دنیا میں صرف اٹھ ممالک مشینی ووٹنگ کروا رہے ہیں جبکہ دس کے قریب ممالک یہ تجربہ کرنے کے بعد مایوس ہو کر دوبارہ روایتی طریقہ سے الیکشن کروا رہے ہیں۔

قومی سطح پرمشینی ووٹنگ کروانے والے بڑے ممالک میں انڈیا اور برازیل ہیں۔انڈیا کی مشینی ووٹنگ اور نتائج کے بارے میں جاننے کیلیئے زیادہ تحقیق کی بجائے حیدر آباد (انڈیا) کے مشہور پروگرامر ہری پرساد کا ان مشینوں کی کاردگردگی پر تجزیہ پڑھ لیں تو آپکے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ جہاں تک مشینوں کی تعداد اور قیمت کی بات ہے تو ہر پولنگ اسٹیشن پر شناخت، آر ٹی ایس، بیلٹ اور کنٹرول کیلٰے کم از کم چار مشین چاہیے۔لیکن اگر پولنگ کا وقت دس گھنٹے سے کم ہو تو دو سے تین پولنگ بوتھ بمشکل 55 سے60 فیصد کا ٹرن آوٹ دے سکیں گے۔2018 میں لگ بھگ پچاسی ہزار پولنگ اسٹیشن تھے جو اگلے الیکشن میں تقریبا ایک لاکھ ہونگے۔۔یوں اندازاً آٹھ سے دس لاکھ مشینز درکار ہوں گی۔ فی الوقت حکومتی اعداد شمار جو بھی ہوں وہ جلد یا بدیر درج بالا حقائق کی تصدیق کرتے نظر آئیں گے۔اب اگر قیمت کا تخمینہ لگائیں تو ایک مشین اگر ہزار روپے کی ہو تو ایک ارب بنتا ہے۔(جو کہ ناممکن ہے۔آج کے حالات میں تو ایک ہزار میں کوئی دھکا بھی نہیں دیتا مشین تو دور کی بات). ایک محتاط اندازے کے مطابق مطلوبہ مشینوں کی کل قیمت تقریبا 150 سے 200 ارب بنتی ہے۔جو معاشی حالات اور منہگائی کا طوفان پاکستان میں ان دنوں ہے اس کے پیش نظر یہ قیمت درج بالا تخمینہ سے زیادہ ہی ہو گی۔اور انکے لیے عملہ کی ٹریننگ، اسمبلنگ، سٹوریج، ترسیل، آپریٹنگ کے مسائل پر کوئی مفید بحث فی الحال نظر نہیں آتی۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اتنی خطیر رقم خرچ کرنے اور مسائل کا سامنا کرنے کے بعد اگر "فری اینڈ فیئر "الیکشن نصیب ہو جائیں تو نقصان کا سودا نہیں ہے۔

لیکن ناقدین اور ماہرین کی الجھن کی بنیاد یہے۔بنیادی بات ہے۔ماہرین کے مطابق مشینوں کے زریعے الیکشن میں دھاندلی ناصرف زیادہ آسان ہے بلکہ اسکا کوئی ثبوت بھی نہیں ملے گا۔پروگرامرز اور ٹیکنالوجی کی اچھی سوجھ بوجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ مشینیں خاص فرم ویئرز کی حامل ہونگی۔جس میں شیڈیول کوڈنگ با آسانی کی جا سکتی ہے۔اسکی تفصیل میں جائے بغیر مختصرا قارئین کو بتاتے ہیں کہ کوڈنگ کے زریعے مخصوص وقت میں مشین مطلوبہ فیڈنگ پر کام کریں اور پھر دیے گئے وقت پر ڈیٹا مٹا دیں۔اس پر بھی لاکھوں مشین پر کام کرنے کی ضرورت نہیں۔

اگر ایک پارٹی 30 سیٹوں کی لیڈ پر ہے تو صرف تیس سیٹیں ادھر سے ادھر کرنے سے دوسری پارٹی کی ساٹھ سیٹوں کی لیڈ بنائی جا سکتی ہے۔اس کے لیئے بھی آپ کو پورے حلقہ کی مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کی ضرورت نہیں ہے۔کسی بھی حلقہ میں اوسطاً 260 سے 330 کے درمیان مشین استعمال ہونگی۔اپ صرف دس پولنگ کا رزلٹ تبدیل کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔اگر آپ نے تیس سیٹوں کے نتائج بدلنے ہیں تو آپ کو کل تین سے چار سو پولنگ اسٹیشنز کی مشینوں پر ہاتھ صاف کرنے ہونگے۔جو کہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔اور یوں پتلی تماشہ لگانے والوں پر بھی کوئی حرف نہیں آئے گا۔

اگر آپ زاہد گشکوری کی اوور سیز ووٹ پر اسٹوریز پڑھیں تو آپکو پتہ چلے گا کہ کس طرح ووٹرز کی بڑی تعداد کو مخصوص کانٹے دار مقابلے والے حلقوں میں ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ان ووٹ کا استعمال کر کے دھاندلی کا چاند مزید سہولت کے ساتھ چڑھایا جا سکتا ہے۔ 2018 میں آر ٹی ایس متعارف کروایا گیا اور پھر ہماری نظروں کے سامنے بٹھایا بھی گیا۔اس وقت بھی ماہرین تحفظات کا اظہار کر رہے تھے ساتھ ہی ساتھ گزارش کر رہے تھے کہ اتنے بڑے پیمانے پر تجربہ کرنے سے پہلے اسے بلدیاتی الیکشن یا چند حلقوں میں چیک کیا جانا چاہیے۔لیکن "صاحب لوگ” نہیں مانے اور نتیجہ آپکے سامنے ہے۔

اب بھی اگر اس ملک میں سچ میں "فری اینڈ فیئر "الیکشن کا اردہ ہے اور یہ سوچ ہے کہ مشینیں دھاندلی سے پاک الیکشن میں کارگر ثابت ہونگی تو اس کا کم از کم چھوٹے پیمانے پر تجربہ ہی کر لیجئے۔ورنہ جیتنے والے کے علاوہ باقی سب پھر سے دھرنے دیتے نظر آئیں گے۔جس طرح پالیمنٹیرین اکٹھے کیئے گئے اور جس طرح منظوری لی گئی عوام ابھی سے کہہ رہی ہے کہ دھاندلی روکنے کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے دھاندلی کی بو آتی ہے۔ان مشینوں کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔اب فیصلہ ساز قوتوں کو سوچنا ہے کہ انہوں نے اس ملک میں کوئی اچھی روایت ڈالنی ہے یا ہر بار کی طرح مستقبل میں بھی سرکس جاری رکھنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں