خوابوں کے سوداگر اور پجاری ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر راحت جبین

شیخ چلی کی ایک کہانی بچپن سے بہت سنتے آئے ہیں۔ جس میں شیخ چلی ہاتھ میں انڈے لیے بیٹھا ایک گڑھے کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہے.وہ کسی گہری سوچ میں گم ہوتا ہے اور پھر سوچتے سوچتے رونے لگتا ہے۔ ساتھ بیٹھا شخص پوچھتا ہے کہ شیخ جی کیوں رو رہے ہو؟ تو شیخ چلی گویا ہوتا ہے کہ میں سوچ رہا ہوں کہ ان انڈوں سے چوزے نکلیں گے، چوزے کچھ دنوں میں بڑے ہونگے۔ پھر ڈیڑھ سارے انڈے اور مرغیاں ہوں گی۔ جن کو بیچ کر میں بکری خریدوں گا۔ اور پھر بکری کے بچے ہونگے پھر بہت ساری بکریاں ہونگی۔ کچھ بکریاں بیچ کر میں شادی کروں گا پھر بچے ہونگے ایک دن میرا سب سے

چھوٹا بچہ گھٹنے چلتا ہوا اس گڑھے میں گر جاتا ہے۔ میں اپنے اس بچے کے لئے رو رہا ہوں۔ مگر یہاں جو صورتحال میں بیان کرنے جارہی ہوں وہ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ فرقْ ہے تو صرف اتنا کہ شیخ چلی خود اپنے لئے جاگتے میں خواب دیکھتا تھا مگر تعبیر کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا تھا۔ مگر یہاں خوا ب بیچنے والے اور، اور خریدنے والے اور ہیں. جتنے بڑے خواب اتنی زیادہ بینک بیلینس۔ ان رنگین اور خوشنما خوابوں کے سوداگر کوئی اور نہیں ہمارے اپنے لیڈر صاحبان اور سیاستدان ہیں۔ خوابوں کے اس سودے میں فائدہ ہمیشہ خواب بیچنے والے کا ہی ہوتا ہے اور خریدنے والا ہمیشہ ہی خسارے میں رہتا ہے.وہ اپنے خریدے ہوئے خوابوں کی ٹوکری اٹھائے اپنی ہی جمع پونجی سے جاتا ہے۔ مگر پھر بھی اپنے سوداگر کے خلاف کچھ سن نہیں سکتا۔کبھی کبھار ایک آدھ خواب فائدہ مند بھی ثابت ہوتے ہیں مگر وہ بھی خوابوں کے خریدار کی اپنی جمع پونجی سے ٹیکس کی صورت میں کاٹ کر اسی پر خرچ کی جاتی ہیں۔ اس طرح خوابوں کے پجاریوں سے لوٹی ہوئی باقی رقم ملک سے باہر منتقل کی جاتی ہے اور نئی سرمایہ کاری شروع ہو جاتی ہے.اس طرح سیاستدانوں کے اپنے خوابوں کو انتہائی خوشنما تعبیر ملتی ہے۔ مگر بد بختی سے عوام کے خریدے ہوئے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے ہیں۔ غریب پاکستان کے امیر سیاستدانوں اور امیر پاکستان کے غریب عوام کے درمیان خوابوں کی خرید فروخت کا یہ بازار ہر پانچ سال کے بعدایک دن کے لئے سجتا ہے۔ ہر پانچ سال بعد نئے دکاندار نئے خوابوں کے ساتھ اور پرانے دکاندار اپنے بوسیدہ خوابوں کو قلعی چڑھا کر دوبارہ مارکیٹ میں پیش کرتے ہیں. ہر طرف بڑی بڑی دکانیں سج

جاتی ہیں اور سوداگر لاؤڈ سپیکر میں اعلان کرکر کے اپنے خواب بیچتے ہیں، کوئی اچھی اور معیاری تعلیم، اسکول اور پارک کے خواب بیچتا ہے، کوئی پکی سڑکوں کے خواب پیش کرتا ہے۔ کوئی روشنیوں کے خواب دکھاتا ہے تو کوئی روٹی کپڑا اور مکان کے، کوئی اچھی صحت کے اور کوئی پینے کے صاف پانی کے۔ ہمیشہ کی طرح دھوکہ کھانے کے باوجود خوابوں کے پجاری پھر سے نئے جوش و جذبے کے ساتھ نئے خواب خریدنے پہنچ جاتے ہیں۔ اکثر نئے سوداگروں کے خوابوں کی نوعیت وہی رہتی ہے جو پرانی دکان چلانے والے سوداگروں کی ہوتی ہے۔ مگر فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ کرنے

والے اسے مزید جادوئی تخیل میں پرو کر پیش کرتے ہیں کہ اکثر اوقات خواب نہ خریدنے کا عہد کرنے والا بھی خواب خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کہ شاید اب کے یہ خواب صبح صادق کے خواب ثابت ہوں مگر تعبیر ہمیشہ کی طرح الٹی ہی نکلتی ہے. خواب بیچنے والوں کا یہ کاروبار بہت وسیع ہوتا ہے اس کی مارکیٹنگ کے لئے باقائدہ تنخواہ دار ملازم رکھے ہوتے ہیں جو ان خوابوں کی ترویج اور فروخت میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے سوداگر تو اپنے خوابوں کی بولیاں بھی لگاتے ہیں مگر صرف ہزار دو ہزار میں یا بریانی کی پلیٹ کے عوض یہ خواب بک جاتے ہیں۔ اور خریدنے والا ایک دو دن بعد پھر تہی دامن رہ جاتا ہے اگلے پانچ سال کے لئے۔ اور خوابوں کے سوداگر پانچ سالوں کے لئے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ نجانے ہمارے ملک میں کب یہ خواب بیچنے اور خریدنے کا سلسلہ چلتا رہے گا؟نجانے کب ہم خوابوں کے پیچھے بھاگیں گے؟ نہ جانے کب ہم عملی زندگی میں قدم رکھیں گے؟ نجانے کب ہمارے خریدے ہوئے خواب شرمندہ تعبیر ہونگے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.