غلام گر دش ۔۔۔ تحریر : مہر اشتیاق احمد

انگریز افسران ! جنہوں نے ہندوستان میں ملازمت کی جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وہاں پبلک پوسٹ ./ذمہ داری نہ دی جاتی ل دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ہے ۔ جس سے تمہارے اطوار رویے میں فر ق آیا ہوگا ۔ اگر یہاں اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کر و گے ۔ ایک انگریز خاتون ، جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا افسر تھا ۔ خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے ، واپسی پر اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی ۔ خاتون نے لکھا کہ میرا شوہر

جب ایک ضلع کا ڈپٹی تھا اس وقت میرا بیٹا چار سال اوربیٹی ایک سال کی تھی ۔ ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکٹر پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے ۔ ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے ۔ روز پارٹیاں ہوتیں ۔ شکار کے پروگرام بنتے ، ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے ، اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اُسے اپنی عزت افزائی سمجھتا۔ ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خداندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے ۔ ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالی شان ایک ڈبہ کمشنر صاحب کی فیملی کیلئے مخصوص ہوتا تھا ۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو سفیدلباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے آکر دو نوں ہاتھ باند ھ کر کھڑا ہوجاتا اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا ۔ اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی ۔ ایک بار اایسا ہوا کہ ہم سفر کیلئے ٹرین پر بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی میرا بیٹا بول اُٹھا ۔ جسکا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا ۔ اس نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹرین نہیں چلانی ، ڈرائیور ن ے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ حکم چھوٹے سرکار ،کچھ دیر بعد صورت حال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہاتھا کہ لیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا ۔ بلا آخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا ۔ بلا آخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت

دلائی تو سفر کا آغاز ہوا ۔ چند ماہ بعد دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی ، ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے ، ہماری منزل ویلز کی ایک کا ئونٹی تھی ۔ جس کیلئے ہم نے ٹرین کا سفر کرناتھا ۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک ٹیبل پر بیٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلے گئی ۔ قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہوگئی ۔ جس پربیٹے کا موڈ خراب ہو گیا ۔ ج ب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپائونڈر کی بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا ۔ وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر کا آغاز شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا ۔

وہ زور زور سے کہہ رہا تھا کہ یہ کیسا اُلو کا پیٹھ ڈرائیور ہے ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگوائوں گا ۔ میرے لیے اُسے سمجھنا مشکل ہو گیا کہ یہ اُسکے باپ کا ضلع نہیں ۔ یہ ایک آزاد ملک ہے ۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجے کے سرکاری ملازم تو کیا ۔ وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنی انا کی تسکین کیلئے عوام کو خوارکر سکے ۔ آج یہ واضع ہے کہ ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے ۔ البتہ غلامی کو دیس نکالا نہیں دے سکے ۔ْ یہاں آج بھی کئی ڈپٹی کمشنرز ، ایسے پیز ،وزرا ،مشیران اور

سیاست دان صرف اپنی انا کی تسکین کیلئے عوام کو گھنٹو ں سڑکوں پر ذلیل خوار کرتے ہیں ۔ اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر طرح کے تعصبات اور عقیدوں کو بالا طاق رکھ کر پروٹوکول لینے والوں کی مخالفت کرنی چاہیے ۔ ورنہ صرف 14اگست کو جھنڈے لگا کر ، ترانے لگاکر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئے کہ ہم آزاد ہیں ۔ ہر وہ ملک جس کے بادشاہ ، حکمران ، وزیر ، مشیر ،بیورو کریٹس اورتاجربڑے گھروں اور بڑے دفتروں میں رہتے ہیں ۔ وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگا ۔ میں خاموشی سے سنتا رہا ۔ْ انہوں نے فرمایا کہ پو را عالم اسلام بڑے گھروں کے ضبط میں مبتلا ہے ۔

اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ۔ عرب میں سینکڑوں ، ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں ۔ اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ۔ تم پاکستان کو دیکھو ! تم ایوان صدر ، وزیر اعظم ہائوس ، گورنر ہائوسز ، کور کمانڈر ہائوسز ، آئی جی ، ڈی آئی جی ہائوسز ، ڈی سی اوز ہائوس اور سرکاری گیسٹ ہائوس کو دیکھو ، یہ سب کیا ہیں ؟ یہ سب بڑے گھر ہیں ۔ پاکستا ن کے ایک ضلع میں 18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا106کنال رقبہ پر مشتمل ہے ۔و زیر اعظم ہائوس کا رقبہ قائد اعظم

یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے 4گنا زیادہ ہے ۔ لاہور کا گورنر ہاؤس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے اور ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہے ۔ میں خاموشی سے سنتا رہا ۔ پھر بولے ! تم اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو، انکی شا ن و شوکت دیکھو ، انکے اخراجات اور عملہ دیکھو ، کیا یہ سب فراعونیت نہیں ؟ کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا ؟ جبکہ اسکے بر عکس تم دنیا کی تر قی یافتہ قوموں کا لائف اسٹائل دیکھو ، بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے ۔ دنیا میں صرف 18ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر

ہیں ۔ با قی192ممالک اس سے کہیں غریب ہیں ۔ لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے ۔ وہ اپنے برتن خود دھو تا ہے وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اسکا دفتر مائیکرو سافٹ کے کلر کوں سے بڑا نہیں ۔ وادن بغٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے ۔ اس کے پاس50برس پرانا اور چھوٹا گھر ہے ۔ اسکے پاس 1980کی گاڑی ہے اور وہ روز کو کا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے ۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کے پاس دو بیڈ روم کا گھرہے ۔ جرمنی کی چانسلر کو سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائینگ روم کا گھر ملا ہے ۔ اسرائیل کا وزیر اعظم دنیا کے سب سے چھوٹے

گھر میں رہ رہا ہے اور کبھی کبھار اسکے گھیر کی بجلی کا بل ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے بجلی کا کنکشن تک کاٹ دیاجاتا ہے ۔ بل کلنٹن لیونسکی کیس کے دوران کورٹ فیس ادا کرنے کیلئے دوستوں سے اُدھار لیناپڑا ت ھا ۔ وائیٹ ہاؤس کے صرف دوکمرے صدر کے استعمال میں ہیں ۔ اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے ۔ جاپان کے وزیر اعظم کو شال 4بجے کے بعد سرکاری گاڑی کی سہولت نہیں ۔ چنانچہ تم دیکھ لو !چھوٹے گھروں والے یہ لوگ ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ یہ ممالک آگے بڑ ھ رہے ہیں اور ہم دن رات پیچھے جارہے ہیں ۔ کیونکہ ہمارا ذہن ترقی یافتہ قوموں کی طرح کا نہیں ۔ ہم صرف غلام قوموں پر حکمرانی کرنے کے شوقین ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.