کمسن ملازمہ پر تشدد کرنیوالے رانامنیر اور ان کی اہلیہ کو بڑا ریلیف مل گیا

فیصل آباد(نیوز ڈیسک)فیصل آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کے معاملے میں طاقتور ملزم کو رہا کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے، ملزم کو عدالت میں پیش کیا لیکن ملازمہ کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے اس کے والدین کے حوالے کردیا ۔ پولیس نے بچی کا میڈیکو لیگل بھی نہیں کروایا، اور نہ ہی عدالت کی کارروائی میں چائلڈ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کو طلب کیا گیا۔جبکہ مدعی کے بغیر ہونے والی عدالتی کارروائی ملزم کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم رانا منیر کو فیصل آباد میں تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے،

جس کی وجہ سے اس کیخلاف کارروائی میں نرمی برتی گئی۔ ملزم کی گرفتاری کے وقت اس کی بیوی گھر میں موجود تھی لیکن پولیس نے اس کو اب تک گرفتار نہیں کیا۔اس واقعے نے ملک میں انصاف کی قلعی کھول دی ہے۔واضح رہے کہ فیصل آباد میں12 سالہ گھریلو ملازمہ صدف کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم کو عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنجاب پولیس نے کمسن بچی پر تشددکرنے پر رانا منیر کو گرفتار کر لیا تھا۔ آج صبح ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مجسٹریٹ ذوالفقار احمد نے ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے۔ ملزم رانا منیر کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا گیا ہے ۔کمسن ملازمہ پر تشدد کی ایف آئی آر میں نامزد مرکزی ملزمہ ثمینہ منیر کی گرفتاری اب تک عمل میں نہ آ سکی ۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے فیصل آباد میں معصوم گھریلو ملازمہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کا نوٹس لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے آر پی او فیصل آباد کو واقعے کے حوالے سے فوری رپورٹ پیش کرنے اور بچی پر تشدد کرنے والوں کیخلاف کاروائی کرنے کا حکم دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بچی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم اطلاعات یہ ہیں کہ تشدد کا نشانہ بننے والی بچی لاپتہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے فیصل آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ پر خاتون کے بہیمانہ تشدد کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں