دائمی خوشی اللہ کے کاموں اور روحانیت سے میسر آتی ہے، وزیراعظم

لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منشیات سے عارضی خوشی یا اطمینان ملتا ہے، دائمی خوشی روحانیت سے میسر آتی ہے، معاشرے کی برائی کو اچھائی بنا کر پیش کیا جائے تو وہ پھیل جاتی ہے، مغرب میں پاپ اسٹارز نے ڈرگ کو فیشن بنایا، ہمارا خاندانی نظام ہمیں برائیوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم چھوٹے تھے تو جب والدہ سونے سے پہلے کہتی ہمیں سیدھے راستے پر چلا، تو ہم سوچتے تھے کہ یہ سیدھا راستہ کتنا بیزاری والا ہوگا۔کیونکہ ہم فلمیں دیکھتے تھے۔ لیکن جب میں مطالعہ کیا تو پتا کہ خوشی اللہ کی طرف سے آتی ہے،

جبکہ عارضی خوشی ڈرگ اور نشے سے آتی ہے، اللہ کی طرف سے آنے والی خوشی روح کیلئے ہوتی ہے، یہ ان کو ملتی ہے جو اللہ کیلئے کام کرتے ہیں، جبکہ نشے والی خوشی وقتی ہوتی ہے، منشیات کا عادی ہونا یہی ہے کہ جتناآج نشہ لیا اس کے بعد پھر زیادہ لینا پڑتا ہے۔مغرب میں پاپ اسٹارز نے ڈرگ کو فیشن بنا دیا، پاپ اسٹارز کی زندگیاں تباہ ہوتے دیکھیں۔ معاشرے کی برائی کو اچھائی بنا کر پیش کیا جائے تو وہ پھیل جاتی ہے۔ اس طرح وہاں برائی پھیلی اور خاندانی نظام تباہی کی طرف گیا۔بالی وڈ نے ساری فلمیں ہالی وڈ سے لیں،ہالی ووڈ میں آنے والی تبدیلی 10سال بعد بالی ووڈ پہنچ جاتی ہے۔ مغرب میں بہت زبردست فلاحی نظام ہے۔جبکہ ہمارا خاندانی نظام ہمیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ موبائل فون کے استعمال نے معاشرے میں تباہی مچا دی،ہم ترک ڈرامے اس لیے لائے کہ اس میں معاشرے کی تربیت ہے۔ معاشرے کیلئے کام کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔کوشش کریں گےکہ ایسی چیزیں بنائیں جو معاشرے کو اوپر لےکرجائیں۔یہاں جھوٹ بول کر لوگ دند ناتے پھرتے ہیں۔ برطانیہ میں اگر کسی پر عوامی دولت لوٹنے کا الزام لگ جائے تو وہ کبھی پارلیمنٹ نہیں جاسکتا۔ہمیں علامہ اقبال کی تعلیمات کی طرف جانا ہوگا۔ پاکستان میں تین طرح کا تدریسی نظام چل رہا ہے، آٹھویں تا دہم تک سیرت نبی ﷺ کا ایک مضمون رکھا ہے، جس میں نبی پاک ﷺ کا طرز زندگی بیان کی گئی ہے۔ ایک القادر یونیورسٹی اور نمل یونیورسٹی بنا رہا ہوں ان جامعات میں صوفی ازم پر ریسرچ کی جائے گی۔ القادر یونیورسٹی میں تصوف اور

روحانیت کی تعلیم دی جائے گی۔ داتا صاحب، بلھے شاہ ، بابا فرید اور دیگر صوفیا کو پڑھایا جائےگا۔ شفقت محمود نے بڑی جدوجہد کے بعد یکساں نصاب بنایا ہے۔ کوشش کررہے ہیں کہ یکساں نصاب بہت جلد لاگو کیا جائے۔یکساں نصاب ہمیں 70سال قبل لاگو کرنا چاہیے تھا۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے جو مرضی کر لیں، این آر او نہیں ملے گا، لاہور میں ہونے والے جلسے کے باعث آرگنائزر اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔ جلسے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ سب کو پتہ ہے کہ لاہور میں تیزی سے کورونا کیسز بڑھ رہے

ہیں، ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں، انہیں کوئی احساس نہیں ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون توڑنے والوں کیخلاف ایف آئی آر کاٹی جائے گی۔ اپوزیشن کے جلسوں سے پریشر میں نہیں آؤں گا، پی ڈی ایم کو لاہور میں جلسے کی اجازت نہیں ملے گی، پی ڈی ایم کے جلسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، ہم نے اپنے جلسے کینسل کر دیئے ہیں۔ پارٹی میں کسی کو اجازت نہیں دی کہ جلسے کریں۔سیاسی درجہ حرارت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کہتی ہے این آر او دو، فٹیف کے دوران 34 ترامیم اس کی مثال ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر بہت تنگ کیا۔ کہتے تھے کہ جب

تک شقیں تبدیل نہیں کرو گے ہم فٹیف پر سپورٹ نہیں کریں گے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس ملک کے ساتھ سب سے بڑی بدقسمتی ہے سابق صدر نے اپنی کرسی بچانے کے لیے آصف زرداری، نواز شریف کو این آر او دیا، زرداری کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں ایک ارب روپے خرچ کیا مگر وہ کیس ختم ہو گیا۔ اگر انہیں معاف کرنا ہے تو سب سے پہلے جیلوں میں غریب لوگوں کو باہر نکالوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ شرمندگی ہوئی اس وقت ہوئی جب مجھے بین الاقوامی سطح پر پیسے مانگنا پڑے۔ سب سے پہلے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کروں گا۔ اڑھائی سال بعد اچھے رزلٹ ہوں گے۔ سیاحت ٹھیک کر لی تو ڈالرز پاکستان آئیں گے، ہمارے سیاحتی علاقے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ زراعت سے متعلق چین سے معاملات چل رہے ہیں، زراعت پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button