آصفہ بھٹو کی سیاسی میدان میں انٹری، الیکشن لڑنے کیلئے جگہ کا انتخاب کرلیا گیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو نے گذشتہ روز سیاست میں بڑی انٹری دی۔ سیاسی پنڈتوں نے گذشتہ روز ملتان کے گھنٹہ گھر چوک پر ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں آصفہ بھٹو کی انٹری کو دبنگ انٹری قرار دیا ۔عوام کی بڑی تعداد گذشتہ روز آصفہ بھٹو کے ساتھ چلتی رہی۔ انہوں نے عوام کے ساتھ سارے راستے ”چلو چلو جلسہ گاہ” چلو کے نعرے لگائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور حسین کا کہنا ہے کہ اگر آصف علی زرداری نااہل ہوئے تو آصفہ بھٹو ان کی جگہ الیکشن لڑیں گی۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آصفہ بھٹو کو گذشتہ روز لانچ نہیں کیا گیا وہ پہلے بھی سیاست میں ہیں۔آصفہ بھٹو نے مختصر تقریر کی کیونکہ بلاول نے ویڈیو تقریر کرنی تھی جو کہ تکنیکی مسائل کے سبب نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی سیاست میں ہیں لیکن آگے آنے میں انہیں وقت لگے گا۔گزشتہ روز جہاں سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف زرداری اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو کی سیاسی سرگرمی ٹاپ ٹرینڈ پر رہی وہیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین بھی آصفہ کی متاثر کن شخصیت کا اعتراف کیے بنا نہ رہ سکے۔علی ترین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی اورکہا کہ ’سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن آصفہ بھٹو بہت اچھی ہیں‘۔علی ترین کے آصفہ بھٹو سے متعلق کیے گئے ٹوئٹ پر ٹوئٹر صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔ایک صارف نے کہا کہ ہم علی ترین کو پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کرنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ملتان آصفہ بھٹو زرداری نے پہلی بار کسی بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔دوسری جانب آصف زرداری نے پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس میں پی ڈی ایم جماعتوں کی شرکت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں، ثابت ہوا کہ سیاسی کارکن لاٹھی ، گولی اور جیل سے نہیں ڈرتے۔

آصف زرداری نے کہا کہ اطمینان کی بات ہے کہ جمہوریت کا پرچم نوجوانوں نے سنبھال لیا ہے ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کی حکمرانی اور جدوجہد فتح یاب ہوگی ، ملک کو لاحق مرض کا علاج میثاق جمہوریت پر عمل ہے ،جمہوریت اور سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں