سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے التجا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیا جائے، مریم نواز

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے قائد میاں نواز شریف پر آج مشکل وقت ہے، گزشتہ دنوں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ لیکن انہوں نے مجھے سمجھایا کہ مجھ سے زیادہ عوام تکلیف میں ہیں، جلسے میں شرکت کیلئے اپنے دکھوں کو گھر چھوڑ کر جانا، کیونکہ ہمارا دکھ چھوٹا اور عوام کا دکھ بڑا ہے۔ جب گھر پر مشکل آئے تو بیٹیاں اور بہنیں نکلتی ہیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں ملتان کی عوام کو سلام پیش کرتی ہوں۔ ہمارے نہتے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ ثابت قدیم رہے۔

ہمارے نہتے کارکنوں پر ظلم کیا گیا تو انہوں نے ہر گلی کو جلسہ گاہ بنا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ ہمیں غریبوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے کا احساس ہے۔ عوام پر روز دکھوں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔ عوام بے روزگار ہو گئے ہیں۔ روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی گئی ہے۔لیگی رہنما نے کہا کہ ہمیں دشمن بھی ملا تو کم ظرف ملا۔ دادی کا انتقال ہوا تو وہاں فون سروس مکمل بند تھی۔ ڈھائی گھنٹے گزر گئے لیکن جعلی حکومت نے مجھے اطلاع نہیں پہنچائی۔انہوں نے بتایا کہ جس وقت میری دادی آخری سانسیں لے رہی تھیں تو میرے والد کی گود میں تھیں۔ میرے والد لندن میں کاؤنٹی نہیں کھیل رہے تھے جو مرتی ماں کے پاس نہ آتے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کے گھر والوں کو جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اکبر بگٹی کو غار میں گھس کر قتل کر دیا گیا لیکن ان کے گھر والوں کو بھی جنازہ نہیں پڑھنے دیا گیا۔ اسی طرح محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کرکے ان کے قاتلوں کو ملک سے باہر فرار کرا دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جلا وطنی کے دور میں میرے دادا کا انتقال ہوا لیکن میرے والد اور چچا کو ان کا جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آج نواز شریف والدہ کو لحد میں اتارنے کے لیے نہیں آ سکا۔ ہمیشہ منتخب نمائندوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟مریم نواز نے کہا کہ جس طرح کشمیر کو مودی کی جھولی میں پھینک کرآگیا، اسی طرح آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شروع ہوچکی ہے، ملتان کی عوام یہ پوچھتی ہے کہ پاکستان میں

اچانک اسرائیل کی حمایت کی تحریک کیسے چلنا شروع ہوگئی؟ یہ مہم کون چلا رہا ہے؟ عوام پوچھتے ہیں کہ کیا اسرائیل کی مہم کے پیچھے بھی سلیکٹڈ اور سلیکٹرز ایک پیج پر ہیں یا نہیں، کشمیر میں الیکشن آرہا ہے ، جس نے غداری کے پرچے کٹوائے، ویسے تو یہ کشمیر کے الیکشن کا چلے گا نہیں، اگر ووٹ مانگنے جائے گا تو وہاں کے عوام غداری کے پرچوں سے استقبال کرے گا۔سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ 6سال سے فارن فنڈنگ کیس پر سانپ بن کر کیوں بیٹھا ہے؟فارن فنڈنگ کا کیس کیوں یہ روک کربیٹھا ہوا، فارن فنڈنگ کیس کے بہت بڑے بڑے ثبوت ہیں،

اگر وہ باہر آگئے تو عوام کو پتا چلا جائے گا کہ کیوں یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، عوام آج اس جج کو ڈھونڈ رہے ہیں، جس نے اس کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دیا تھا، ہم جانتے ہیں وہ فکس میچ تھا، جس طرح صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دینے والے کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا، اسی طرح سلیکٹرز کو بھی منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا، سلیکٹرز کی بھی داددینی پڑتی ہے کہ چن کر نااہل ترین شخص کو ہمارے سروں پر مسلط کردیا، جس نوازشریف کو نااہل قرار دیا ، اس کے دور میں روٹی2روپے، آج 30روپے کی ہے۔نوازشریف کے دور میں 50روپے کلو

چینی اب 120روپے کی چینی ہے۔ 30روپے کلو آٹا، آج 90روپے میں آٹا نہیں مل رہا۔ آج غریب بھوکے پیٹ سوتا ہے۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کہتے ہیں میں کاروبار نہیں کرتا تو بھائی کاروبار محنت کرنے والے کرتے ہیں، جب ساری زندگی دوسروں کی جیبوں پر گزارا کرنا ہے تو محنت اور کاروبار کی کیا ضرورت، جنہوں نے کشمیر کو نریندر مودی کی جھولی میں ڈال دیا وہ اسرائیل کی بات کر رہے ہیں، عوام پوچھتی ہے کہ پاکستان میں اسرائیل کی حمایت کی مہم کون چلا رہا ہے، نواز شریف کے دور میں روٹی 5 روپے کی تھی آج 30 روپےکی ہے، نواز شریف کے دور میں چینی 50 روپے کی تھی صادق اور امین کے دور میں 130 روپے ہے، نواز شریف کے دور میں 30 روپے کلو آٹا تھا آج 100 روپے میں بھی نہیں مل رہا۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ پی ڈی ایم آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے خود حکومت چھوڑ دو، پی ڈی ایم فیصلہ کرنے والی ہے پھر نہ کہنا کہ بتایا نہیں جبکہ عوام سے وعدہ ہے کہ مشکلات سے نکالنے کے لیے جیل بھی جانا پڑا تو کوئی پرواہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں