جہانگیر ترین اب تحریک انصاف میں ہیں یا نہیں ، وزیراعظم عمران خان نے بڑااعلان کردیا

لاہور (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین پارٹی میں ہیں نہ ہی ان کے پاس کوئی عہدہ ہے، فردوس عاشق اعوان پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں تھا اگر کسی کوعاصم سلیم باجوہ پراعتراض ہےتونیب سےرجوع کرسکتاہے۔نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار چینی اسکینڈل جیسی تحقیقات ہوئیں جہانگیر ترین مشکل وقت میں تحریک انصاف کےساتھ کھڑے رہے ہیں، جہانگیر ترین پارٹی میں ہیں نہ ہی ان کے پاس کوئی عہدہ ہےجہانگیر ترین کہتے ہیں کہ وہ بےقصور ہیں تحقیقات ابھی جاری ہیں اور تحقیقات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان کا ایک انٹرویو میں کہنا ہے کہ چینی کے معاملے پر ایکشن ہو رہا ہے ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، مسابقتی کمیشن میں بھی کیس چل رہا ہے،مسابقتی کمیشن پچھلے 11 سال سے کچھ نہیں کر رہی تھی۔ایف آئی اے میں بھی تحقیقات چل رہی ہیں چینی مافیا کے خلاف پہلی بار پاکستان میں ایسی تحقیقات ہوئیں،تحقیقات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ابھی جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں، جہانگیر ترین کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے، جہانگیر ترین الزامات کی تردید کرتے ہی، جہانگیر ترین اس وقت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں،انکوائری میں جو چیزیں سامنے آئیں اس پر دکھ ہوا، جو بھی ملوث پایا گیا اس کو سزا دی جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہادارے بالکل آزاد ہیں ہماری طرف سے تحقیقات میں مداخلت نہیں ہو گی، چینی کا ریٹ شوگر ملز ایسوسی ایشن طے کرتی تھی،پہلی بار یہ تحقیقات ہو رہی ہیں۔فردوس پر کوئی کرپشن کیس نہیں تھا، ہر وروز ہمارے لوگوں پر الزامات لگتے ہیں،میں ایک ایک بندے کی آئی بی کے ذریعےتحقیقات کرواتا ہوں،الزام کو عدالت میں ثابت کرنا بڑا مشکل کام ہے، انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں پاناما کیس کا انکشاف ہوا، نواز شریف کے کیس کو عدالت میں ثابت ہونے میں ڈیڑھ سال لگا، عدالت میں جانے کے لیے ثبوت ہونے چاہیں۔فردوس عاشق اعوان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی اطلاعات پنجاب پر کوئی کرپشن کیس نہیں، محکمہ اطلاعات میں کچھ مسائل تھے اور ہمارے ایک دو لوگوں کو ان سے مسئلہ تھا جس کی وجہ

سے ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں جہاں بھی کسی وزیر سے متعلق کرپشن کی اطلاعات ملتی ہیں تو میں اپنے ایسے ایک ایک وزیر کی آئی بی کے ذریعے خود تحقیقات کرواتا ہوں۔چیئرمین پی ٹی وی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نعیم بخاری پاناما میں میرے وکیل بعد میں بنے وہ گزشتہ 50 سال سے پی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور ان سے زیادہ اس ادارے کو شاید ہی کوئی سمجھتا ہو، ہماری درخواست پر انہوں نے یہ ذمے داری قبول کی ہے، یہ ایگزیکٹو نہیں ہیں بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جو پالیسی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر حکومت کا مؤقف سامنے آنا چاہیے لیکن اس کی ساکھ بھی بی بی سی اور ٹی آر ٹی کی طرح بنانے کی ضرورت ہے، پی ٹی وی پر حزب اختلاف کو وقت ملنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں