ملتان میں پی ڈی ایم کارکنان اور پولیس آمنے سامنے ، حالات کشیدہ

ملتان(نیوز ڈیسک)انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن پارٹیوں کے کارکن تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے قاسم باغ اسٹیڈیم میں داخل ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق ملتان میں اپوزیشن کے اعلان کردہ جلسے کے حوالے سے گزشتہ چند روز کے دوران اپوزیشن اور پنجاب حکومت کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرلی ہے۔ حکومت نے کورونا ایس او پیز کے تحت جلسے کی اجازت نہیں دی اور ملتان ڈویژن میں کورونا ایس پیز کی خلاف ورزی پر اب تک 9 مقدمات درج ہوچکے ہیں جب کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جلسہ ضرور ہوگا۔ملتان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)

کی جانب سے الگ الگ ریلیاں نکالیں اور قلعہ کہنہ قاسم باغ کا رخ کیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی قیادت علی موسی گیلانی کررہے تھے جب کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن عبدالرحمان کانجو اور طارق رشیدکی قیادت میں قاسم باغ اسٹیڈیم پہنچے، بعد ازاں جے یو آئی (ف) کے قافلے بھی اسٹیڈیم میں داخل ہوگئے۔علاوہ ازیں اس موقع پر علی موسیٰ گیلانی اور حیدر گیلانی نے اعلان کیا کہ حکومت نے جو کرنا ہے کرلے، یہ جلسہ ہوکر رہے گا۔وہیں علی موسیٰ گیلانی نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ہم جلسہ گاہ میں آچکے ہیں اور اب 30 نومبر تک یہیں پر رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملتان کے تمام کارکنان جلسہ گاہ کی طرف آرہے ہیں اور 30 نومبر کو یہیں جلسہ ہوگا اور ہم اپنے قائدین کا یہیں انتظار کریں گے۔علی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ یہی پلان اے، بی اور سی ہے، کارکنان اسٹیڈیم میں ہی بیٹھیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نیئر بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ڈی ایم کے چار جلسوں نے سلیکٹڈ کے اعصاب خطا کر دیے ہیں، جیالے عمران خان کی طرح چھپ کر بیٹھنے والے نہیں ہیں۔نیئر بخاری نے کہا کہ نالائق اور نااہل لاڈلے نے عوام کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کا شکار کر دیا ہے، سلیکٹڈ کا مزید اقتدار میں رہنا ملک کی تباہی کو دعوت دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں