حکومت کا 18ویں ترمیم میں تبدیلیاں کرنے کا اعلان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ زنا بالجبر کے مجرموں کے لیے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں، جس میں ریپ کے مجرموں کو نامرد کیاجائے گا۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ کیمیکل کیسٹریشن (جنسی صلاحیت سے محروم کرنا) کے کچھ کیسز میں مخصوص مدت کیلئے یا زندگی بھر کیلئےہوسکے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں جنسی مجرموں کو نامرد بنائے جانے کے قوانین ہیں۔ مجرموں کا ڈیٹابیس بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 10 سے 25 برس قید کےعلاوہ تاعمر قید اور موت کی سزائیں ہوں گی۔وزیر قانون کے مطابق پارلیمنٹ کا سیشن نہ

ہونے کی وجہ سے آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرمان کیلئے کیسٹریشن کا قانون لانے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون سازی پر بحث کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ سنگین نوعیت کا معاملہ ہے، قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کیلئے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہو گی۔ یقینی بنایا جائیگا کہ سخت سے سخت قانون کا اطلاق ہو۔اجلاس میں کچھ وزرا نے زیادتی کےمجرمان کیلئے سرےعام پھانسی کی سزا کو بھی قانون کا حصہ بنانےکامطالبہ کیا۔ فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نورالحق قادری نے پھانسی کی حمایت کی۔عمران خان نے کہا کہ قانونی ٹیم نے ریپ قانون آرڈیننس کےمسودہ پرکام مکمل کرلیا ہے۔ وزیراعظم نے رائے دی کہ ابتدائی طورپرکیسٹریشن کےقانون کی طرف جاناہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات اور گواہوں کا تحفظ بھی قانون کا بنیادی حصہ ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے کورونا صورتحال پرقوم کواعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان پہلے ہی ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اور اس کے نتائج کی ذمہ دارپی ڈی ایم پر ہوگی۔واضح رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے لیے تیار ہوں، 18ویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دوں گا، جو بھی قانونی راستہ ہوگا وہ اختیار کریں گے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم تبدیل نہیں ہوسکتی

کیونکہ یہ آئین کا حصہ بن چکی ہے، تبدیلی کے لئے علیحدہ سے بل لانا ہوگا۔یاد رہے کہ وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ آئین آسمانی صحیفہ نہیں، کسی بھی وقت ترمیم کیا جاسکتا ہے ، یہ 18 ویں ترمیم پر لمبی لمبی پریس کانفرنس کررہے ہیں، 18 ویں ترمیم میں کی بعض شقیں ختم ہونی چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں