حویلیاں میں پی آئی اے کا طیارہ کریش ہونے کی تحقیقات مکمل،ذمہ دار کون نکلا، جانئے

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اور تفتیشی بورڈ (اے اے آئی بی) نے حویلیاں کے قریب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پرواز پی کے-661 کے حادثے کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طیارے میں تین "تکنیکی تضادات” تھے جس کی ذمہ داری ایئر لائن انجینئر پر عائد ہوتی ہے۔تفصیلات کے مطابق 7 دسمبر 2016 کو بینظیر بھٹو اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے شمال میں اے ٹی آر-42 طیارہ 24 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پہاڑیوں سے ٹکرا جانے کے بعد مجموعی طور پر 47 مسافروں اور عملہ اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔ملک کی ہوا بازی کی تاریخ کے سب سے تباہ کن ہوائی حادثوں میں سے ایک میں جاں بحق ہونے والے لوگوں میں شامل مبلغ و نعت خواں جنید جمشید بھی شامل تھے۔اے اے آئی بی کے

سربراہ ایئر کموڈور عثمان غنی نے جمعرات کو اے ٹی آر طیاروں سے متعلق مختلف واقعات کے حوالے سے دائر درخواست میں بینچ کی بار بار ہدایت کے بعد یہ رپورٹ سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ کو پیش کی۔ہوابازی ڈویژن کے ترجمان سینئر جوائنٹ سیکریٹری عبد الستار کھوکھر نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ تفتیش بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کی فراہم کردہ ہدایت نامے کے تحت کی گئی تھی اور اس کا مقصد ہوائی سفر کی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہوائی حادثہ انجن 1 کے پاور ٹربائن بلیڈ میں سے ایک کے فریکچر سمیت تین ‘پوشیدہ تکنیکی عوامل” کا نتیجہ تھا جبکہ اس کے علاوہ تیز رفتار گورنر کے اندر ٹوٹی ہوئی پن اور پروپیلر والو ماڈیول کے اندر پہلے سے موجود آلودگی بھی ممکنہ عوامل میں شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں