جوبائیڈن امریکی صدر منتخب ہوگئے

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) واشنگنٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدارتی الیکشن ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن نے جیت لیا۔فرانسیی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی میڈیا سی این این، این بی سی نیوز اور سی بی ایس سے حاصل ہونے والی خبروں کے بعد اعلان کیا کہ امریکی الیکشن جوبائیڈن نے جیت لیا۔ وہ امریکا کے 46 ویں صدر بن گئے ہیں۔ جوبائیڈن نے پنسلوینیا سے کامیابی سمیٹ لی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق 77 سالہ جوبائیڈن امریکی تاریخ کے معمر ترین صدر ہوں گے۔ انہوں نے 74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی ہے۔اے ایف پی کے مطابق جوبائیڈن نے سابق صدر باراک اوباما کے صدر

سات سال تک بطورِ نائب صدر فرائض انجام دیئے۔دوسری طرف ٹرمپ نے نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ منگل کو الیکشن والے دن رات آٹھ بجے کے بعد ہزاروں ووٹ غیرقانونی طور پر وصول کیے گئے۔صدر کا کہنا تھا کہ انہی ووٹوں نے ان کی اہلیت کو نااہلی میں بدل دیا۔ پنسلوینیا میں ٹریکٹرز کے ذریعے ووٹوں کی گنتی کا عمل چھپا دیا گیا، جنہوں نے صدر کے مطابق دروازے اور کھڑکیاں بلاک کر دیں، انہیں موٹے گتے کی مدد سے ڈھانپ دیا گیا تاکہ دیکھنے والے ان کمروں میں نہ جھانک سکیں جہاں ووٹ کی گنتی کی جا رہی تھی۔ اندر غلط کام ہوئے۔ تبدیلیاں ہوئیں۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے رسمی الیکشن دفاعی فنڈ میں حصہ لینے کی درخواست کی ہے کیونکہ ان کی فتح کے راستے میں جو بائیڈن بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی مہم اور رپبلکن نیشنل کمیٹی دونوں نے ووٹنگ ڈے کے بعد اپنی فہرستوں میں موجود ڈونرز کو ٹیکسٹ اور ای میل کرنا شروع کر دیا ہے کہ ہمیں لازمی طور پر الیکشن کو بچانا ہوگا۔دوسری اپیلیں امریکی صدر کے بیٹے ٹرمپ جونیئرکے نام سے کی گئیں جن میں انہوں نے بظاہر درخواست کی میرے والد آپ سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اہم الیکشن دفاع فنڈ کو سہارا دینے میں مدد کریں۔بائیڈن نے ریاست ڈیلاویئر میں مختصر بات کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ہم جیت کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے رپبلکن پارٹی کی حامی سمجھی والی ریاستوں مشی گن، وسکونسن اور پینسلوینیا میں کامیابی حاصل کی جہاں وہ 300 سے زیادہ الیکٹوریل کالج ووٹ حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہے تھے۔بائیڈن نے کہا کہ اعدادوشمار ہمیں صاف اور قائل کرنے کی صلاحیت رکھنے والی کہانی سنا رہے ہیں۔ ہم یہ دوڑ جیتنے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں