اغواکی کہانی جھوٹی نکلی، آئی جی پنجاب بھی کیپٹن صفدر کی گرفتار ی کے تمام مراحل میں شریک رہے

کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی میں قائد اعظم کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے کیس میں کراچی پولیس نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرلیا۔مریم نواز نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر بتایا تاہم سندھ حکومت نے اس گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آئی جی سندھ کو اغوا کر کے زبردستی کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کروائے گئے۔اسی حوالے سے سینئر صحافی کامران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اندرونی

کھیل شروع ہو گیا ہے۔مریم بی بی آئندہ سندھ آنے کی دعوت سوچ کر قبول فرمائیں ۔کامران خان کا مزید کہنا ہے کہ ناقابل تردید زرائع بتاتے ہیں کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر ہنستے کھیلتے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے تمام مراحل میں اپنے سینئر اہلکاروں کے ساتھ شریک رہے۔آئی جی سندھ کے اغوا وغیرہ کی کہانی مریم بی بی کی تسلی کے لئے ہے۔واضح رہے کہ ریم نواز شریف نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو کراچی میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کیپٹن صفدر اعوان کو نجی ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔سماجی رابطے کی مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ محمد صفدر کو ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر گرفتار کیا گیا۔ محمد صفدر کی گرفتاری پر مريم صفدر کی جانب سے وزيراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے رابطہ کیا گیا۔ مریم صفدر کا کہنا تھا کہ ہم تو مہمان بن کر آئے تھے يہ کيا ہوا ؟۔ وزيراعلیٰ سندھ نے پوليس سے رابطہ کرکے صورت حال معلوم کی۔منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کیپٹن (ر) صفدر کو گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے گئی۔ گرفتاری کے وقت بھی محمد صفدر کی جانب سے "ووٹ کو عزت دو، مادر ملت زندہ باد ایوب مارشل لا مردہ باد” کے نعرے لگائے گئے۔کیپٹن صفدر کو گرفتاری کے بعد عزیز بھٹی پارک منتقل کردیا گیا۔ منتقلی کے بعد پولیس اسٹیشن کے دروازے بند کردیئے گئے اور پولیس کی جانب سے کسی کو تھانے کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں