بھارتی عدلیہ کابابری مسجد کیس کا سیاہ ترین فیصلہ، پاکستان کا شدید ردعمل سامنے آگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے بابری مسجد شہید کرنے والے ملزموں کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی عدالت کے فیصلے کو شرم ناک قرار دیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چودھری نے بابری مسجد شہید کرنے کے ملزموں کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی عدالت کے فیصلے سے بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔ مسجد شہید کرنے کے نتیجے میں بی جے پی کی زیرقیادت فرقہ وارانہ تشدد ہوا ۔ تشدد کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ نام نہاد جمہوریت میں اںصاف کی علامت ہوتی تو سرعام مجرمانہ فعل پر فخر کرنے

والوں کو آزاد نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ بی جے پی کی ہندو نواز حکومت اقلیتوں کو روز اول سے نشانہ بنا رہی ہے۔ بی جے پی نے پلاننگ کے تحت ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔واضح رہے بھارتی عدالت نے بابری مسجد شہید کرنے کے مقدمے میں نامزد تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔لکھنئو کی خصوصی عدالت میں 28 سال سے جاری مقدمے میں 1992 میں شہید ہونے والی بابری مسجد کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا گیا۔خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسجد کو کسی منصوبہ بندی کے تحت شہید نہیں کیا گیا اور نہ ہی مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کیے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک انٹیلی جینس رپورٹ میں پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا کہ 6 دسمبر کو غیر معمولی حالات پیش آسکتے ہیں تاہم اس رپورٹ پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں