حکومتی اتحاد نے عمران خان کی نا اہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ، این این آئی)حکومتی اتحاد نے عمران خان کی نا اہلی کے لئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کر دیا، عمران خان کے خلاف ریفرنس محسن شاہنواز رانجھا نے دائر کیا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ عمران خان

نے 66 سال میں اتنے پیسے نہیں کمائے جتنے وزیراعظم بننے کے دو ماہ میں کما لیے،اس شخص پر آرٹیکل 62(1) F لگتا ہے۔ اس petty cheif کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے،عمران خان صادق اور امین بن کر قوم پر مسلط رہا، عمران خان قوم کو ٹیکس ادا کرنے کی تلقین کرتے تھے مگر خود توشہ خانہ تحائف کا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے گھڑیاں پہلے بیچی اور خزانے میں رقم بعد میں جمع کروائی، ان تحائف کا اسکے گوشوارے میں کوئی ذکر نہیں ہے،یہ آج صادق اور امین نہیں بلکہ چور مکار جھوٹا اور فریبی ہے، قوم سے جھوٹ بولا خیانت کی، اذئین اور حلف کی خلاف ورزی کی،جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا،عمران خان قومی اسمبلی کے رکن رہنے کے اہل نہیں ہیں، وہ اب آئندہ انتحابی عمل کا حصہ نہیں بن سکیں گے، اسپیکر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا پابند ہے، الیکشن کمیشن نوے دن میں فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے دو ماہ بعد ہی توشہ خانہ سے مہنگی ترین گھڑیاں حاصل کیں ان گھڑیوں کا معاوضہ دو کروڑ قومی خزانہ میں جمع کروانا تھا مگرانہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے گھڑیاں پہلے بیچی اور خزانے میں رقم بعد میں جمع کروائی، قوم کو کہتے تھے ٹیکس ادا کریں جبکہ خود توشہ خانہ تحائف کا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا،

جن لوگوں نے انکو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ جاری کیا آج وہ ذرا انکے کارنامہ بھی دیکھ لیں، قوم آج انکے بارے میں کیا سوچ رہی ہے؟یہ کب تک خیر منائیں گے،یہ پارٹ ون ہے اسکے پارٹ ٹو اور تھری بھی آنے والے ہیں،اسپیکر ریفرنس میں ہمارا ایک ہی مدعا تھا کہ ممبر اسمبلی کہ ذمہ داری ہے وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائے نہیں تو اسکی رکنیت معطل کردی جائے۔عمران خان گھڑیاں چھپانے کیلئے آئین اور قانون کے پیچھے

چھپنے کی کوشش کررہے تھے، اب اس جھوٹے خود ساختہ صادق اور امین کا چہرہ قوم کے سامنے لانے کا وقت آگیا ہے،اسپیکر کو ریفرنس دیا گیا تو قانون کے مطابق اسپیکر نے تیس دنوں میں کاروائی کرنا تھی، یہ آج صادق اور امین نہیں چور مکار جھوٹا اور فریبی ہے۔عمران خان نے 66 سال میں اتنے پیسے نہیں کمائے جتنے وزیراعظم بننے کے دو ماہ میں کما لیے۔ انہوں نے کہاکہ توشہ خانہ سے ٹیبل میٹ اور ڈیکوریشن پیس بھی اٹھا کر

لے گییاس نے تو برتن اور پیٹنگز بھی نہیں چھوڑی چھوٹی چھوٹی چیزیں جو شاید عام آدمی بھی چھوڑ دے وہ بھی اٹھا کر لے گیا یہ petty cheif ہے صادق اور امین بناکر قوم پر مسلط رہا یہ چہرہ قوم کے سامنے لانا ہمارا مقصد ہے۔ انکا گوشوارہ نکال کر دیکھیں اس میں ان تحائف کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے چار جرم کیے ہیں پہلا قوم سے جھوٹ بولا،خیانت کی،آئین اور حلف کی خلاف ورزی کی،جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا، وہ اب قومی اسمبلی کے رکن رہنے کے اہل نہیں ہیں اور نہ ہی آئندہ انتحابی عمل کا حصہ بن سکیں گے۔انہوں نے ٹیکس چوری کیا۔

وزیراعظم ہی ٹیکس چور نکلا، اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا، کرپشن کی۔اب کابینہ پر دباؤ ڈال رہے ہو کرپشن سے قومی سلامتی سے خطرہ ہے اس شخص پر آرٹیکل 62-1 F لگتا ہے۔پاکستانی اداروں سے درخواست ہے اس petty cheif کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کو تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا گیا تاہم یہاں تو جھوٹے حلف نامہ دیئے گئے ہیں،قوم کے سامنے یہی مدعا رکھا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس بھی جارہے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن عمران خان کے گوشواروں سے متعلق فیصلہ کرے،اسپیکر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن نوے دن میں فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button