اماراتی وزیر کا فلسطینیوں کی حمایت میں بیان سامنے آگیا

دُبئی(نیوز ڈیسک) اسرائیل سے امن معاہدہ کرنے کے باعث فلسطینی حکومت اور عوام متحدہ عرب امارات اور بحرین سے بہت ناراض ہیں، اور انہیں فلسطینی کاز سے غداری کے طعنے بھی دیئے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب سے اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کی مدد کا خواہاں رہے گا۔العربیہ اُردو کے مطابق انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کی حمایت اور ان کے لیے امن کے حصول کا خواہاں رہے گا۔قرقاش نے دو ریاستی حل کی حمایت میں متحدہ عرب امارات کے موٴقف پر زور دیتے

ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدہ دوطرفہ تعلقات کا نیا باب جس کے نتیجے میں خطے کے استحکام کو فروغ اور امن کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ "ہمیں یقین ہے کہ یہ معاہدہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کے فروغ کو آگے بڑھانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہماری مشترکہ کوششوں کو کامیاب بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا "۔ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے قیام کے بعد سے ہی اندرون و بیرون ملک ایک اعتدال پسند اور پرامن ایجنڈا اپنایا ہے۔بصری مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے منعقدہ ایشیاء میں باہمی رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس کے وزارتی اجلاس کے دوران انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے عزم کا واضح طور پر مظاہرہ کر چکا ہے۔ان کا کہنا تھا متحدہ عرب امارات کے وعدوں میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرنا ، بحرانوں پر قابو پانے کے لیے عمیق کوششیں کرنا ، تنازعات والے علاقوں میں مہاجرین کو امداد فراہم کرنا ، دوطرفہ اور علاقائی تعلقات اور بین الاقوامی تعاون کو تقویت دینا شامل ہے۔دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں عالمی قوانین کے تحت حقیقی امن کے قیام کے لیے فلطسین سے اسرائیل کا ناجائز قبضہ ختم کرانا اور 1967 کی حیثیت کو بحال کرنا ضروری ہوگا۔صدر محمود عباس نے عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی پر افسوس کا اظہار کرتے

ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو دھچکا لگا ہے اور وہ ناخوش ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سائیڈ لائن لگایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عوام اپنا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔فلسطینی صدر نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی تبدیلی فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر پائیدار نہیں ہوگی اس کے لیے میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اگلے سال خلیجی ممالک کی عالمی کانفرنس مدعو کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔واضح رہے کہ دو عرب ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے امن معاہدہ کیا ہے جس پر فلسطین کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں