ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ،الیکشن کمیشن سے ہمیں انصاف کی توقع نہیں تھی،فواد چوہدری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)تحریک انصاف کے ر ہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج الیکشن کمیشن نے بھی کہا فارن فنڈنگ نہیں،جن اکاونٹس کا کہا جا رہا ہے کہ چھپائے گئے وہ ثابت کریں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ جو اصول اپنایا گیا وہ تمام جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے،جن 16 اکاونٹس کا ذکر کیا گیا وہ سبسڈی ہیں۔ عمران خان کو 16 اکاونٹس کا پتہ نہیں تو وہ ثابت کیسے کرتے۔پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو پبلک فنڈنگ کرتی ہے، پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت فنڈنگ نہیں کرتی،یہ کیس 2013 سے 2018 کے درمیان کی فنڈنگ کا تھا۔ تین،چار ارب کی فنڈنگ کی گئی،زیادہ حصہ اوور سیز پاکستانیوں کا ہے۔ سمجھ نہیں آتی ن لیگ،پی پی اور جے یو آئی نے اوور سیز پاکستانیوں

کو اپنا دشمن کیوں سمجھ لیا ہے۔فواد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 16 اکاونٹس کا عمران خان سے تعلق نہیں۔فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ یہ کیس فارن فنڈنگ کا نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا ہے،الیکشن کیمشن آج ہی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے کیسز کا فیصلہ بھی سنائے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ساتھ لاڈلوں جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ تاثر دیا گیا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی پر پابندی لگانے جا رہا ہے، یہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس تھا،صرف پی ٹی آئی کو پن پوائنٹ کیا گیا۔ ہمارے الیکشن کمیشن پر تحفظات ہیں،اسکروٹنی کمیٹیاں ایک ہی وقت میں 2018 میں بنائی گئیں،الیکشن کمیشن صرف پی ٹی آئی کا فیصلہ سناتا ہے،اس کیس میں کسی قسم کی فارن فنڈنگ نہیں نکلی۔واضح رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا، تین رکنی بینچ کی طرف سے متفقہ فیصلہ سنایا گیا، کیس میں تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوگیا ، جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں، اس لیے تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوگیا ، غیرملکی فنڈنگ میں 34 غیرملکیوں سے فنڈز لیے گئے، اس دوران 13 نامعلوم اکاؤنٹ سامنے آئے، پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17کی خلاف ورزی کی، پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا جو غلط تھا۔بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے دیگر 2 ممبران نثار احمد راجہ اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل بینچ نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2022ء کی دفعہ 6 کے تحت ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں