ق لیگ کوئی نہیں ٹوٹی، کہاں ٹوٹی ہے؟ الزامات لگانے والوں کی کوئی حیثیت نہیں، چوہدری شجاعت

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ق کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتا ہوں، الزامات لگانے والوں کی کوئی حیثیت نہیں، مجھ الزام لگانے والے معافی مانگیں۔ انہوں نے پارٹی رہنماء طارق بشری چیمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ق کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر میرے خلاف مہم چلا ئی جارہی ہے، الزامات لگانے والوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، سچ بولنا گناہ بنتا جا رہا ہے، میرا ایمان ہے سچ بولوں اور تمام معاملات سب کے سامنے لاؤں ، ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور دیتا رہوں گا۔عمران خان کی جانب سے اداروں کے خلاف گفتگو کی جارہی ہے،

سیاست میں تلخیاں ہورہی ہیں ، سخت زبان استعمال ہورہی ہے، ملک کو ایک سال میں جو نقصان ہورہا ہے اس سے مستقبل میں مشکلات ہوں گی، ڈالر کے بڑھتے ریٹس کو روکنا ہوگا، ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں آرمی چیف کو لانا ہماری نااہلی ہے، آرمی چیف کو کیوں مداخلت کرنا پڑی؟ آرمی چیف کو جو مداخلت کرنا پڑی یہ سیاستدانوں کا قصور ہے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر ہوں، کیوں آ رمی چیف کو آئی ایم ایف سے سفارش کرنا پڑی؟ ا نہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور زرداری صاحب خود میرے گھر تشریف لائے، میرے بیٹوں نے ہمیشہ مجھ سے پوچھ کر کام کیے،ق لیگ کوئی نہیں ٹوٹی، کہاں ٹوٹی ہے؟ انہوں نے پارٹی کو تقسیم کرنے کی سازش کی، میں اور طارق بشیر چیمہ اس کے وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پاس گئے کہ کیا بات ہے؟کس جرم کے تحت میرے بیٹوں پر مقدمات بنائے جارہے ہیں، مونس کے خلاف باتیں اور بددیانتی کے الزامات لگائے، میں نے کہا ثبوت دیں، تو 7روز میں ثبوت دینے کا وعدہ کیا ،عمران خان نے کہا کہ سالک کو وزیربنا دیتا ہوں مونس کو وزیر نہیں بناؤں گا۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button