پاک فوج کا سیلاب متاثرین کیلئے اپنا 2 روز کا راشن عطیہ کرنےکا اعلان

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) پاک فوج نے سیلاب متاثرین کیلئے اپنا 2 روز کا راشن عطیہ کرنے کا اعلان کردیا ہے، راشن میں آٹا، چینی، چاول ، چائے، دالیں، خوردنی تیل اور خشک دودھ شامل ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے سیلاب متاثرین کیلئے اپنا 2 روز کا راشن عطیہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ راشن سندھ، بلوچستان ، جنوبی پنجاب ، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرین کو فراہم کیا جائے گا، راشن میں آٹا، چینی ، چاول ، چائے، دالیں، خوردنی تیل اور خشک دودھ شامل ہے۔آرمی فارمیشنز متاثرین میں راشن تقسیم کریں گی۔ دوسری جانب پاک فضائیہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔

آپریشنز کے دوران پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹرز نے 16,995 پانڈز سے زائد امدادی سامان سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جن کا زمینی رابطہ شدید بارشوں اور حالیہ سیلاب کے باعث منقطع ہو گیا تھا۔ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لے جانے والے امدادی سامان میں آٹا، گھی، چینی، دالیں، چائے اور جان بچانے والی ادویات شامل ہیں۔ ملک بھرمیں نامساعد موسمی حالات کے باوجود سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فضائیہ کے اہلکار متاثرہ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کر رہے ہیں۔سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فضائیہ کے متعلقہ شعبوں کو بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ھر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔اسی طرح نیوز ایجنسی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں شہریوں کو کھانا اور پانی نہ ملنے کی شکایات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو معطل کر دیا۔وزیراعظم بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے قلعہ سیف اللہ پہنچے تو سیلاب زدگان کے کیمپ کے حالات جان کر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی۔اس موقع پر وزیراعظم نے متعلقہ افسران کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کیا بھی ہے یا صرف کاغذی کارروائی ہو رہی ہے، متاثرین خود کہہ رہے ہیں کہ کھانا پانی نہیں ملا، میڈیکل کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کی ہدایت پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈی سی، تحصیلدار، اور پی ڈی ایم اے کے کیمپ انچارج کو معطل کر دیا اور خبردار بھی کیا کہ جس بھی کیمپ یا متاثرہ علاقے سے

ریلیف نہ پہنچنے کی اطلاع ملی وہاں کے حکام خود کو معطل سمجھیں۔وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر متاثرین کی بحالی اور آبادکاری سمیت نقصانات کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں، 10 لاکھ روپے وفاقی حکومت اور 10 لاکھ روپے صوبائی حکومت دے رہی ہے، وفاق کی جانب سے دس لاکھ روپے فی الفور دیے جائیں گے۔شہباز شریف نے کہاکہ ہم صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر امداد اور بحالی کا کام کریں گے، مکمل تباہ گھروں کو 5 لاکھ روپے جبکہ جزوی تباہ گھروں کے لیے 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں