سابق چیئرمین نیب نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپنی طلبی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سابق چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپنی طلبی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔سابق چئیرمین نیب کی جانب سے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قومی اسمبلی اور سیکرٹری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو فریق بنایا گیا۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ہائیکورٹ بار کے صدر شعیب شاہین کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔چئیرمین لاپتہ افراد کمیشن کی حیثیت سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 7 جولائی کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس غیر قانونی قرار دئیے جائیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو تادیبی کارروائی سے روکا جائے۔درخواست میں کہا کہ کمیٹی میٹنگ کے منٹس

میں جبری گمشدگیوں کے کمیشن کی چئیرمین شپ سے ہٹانے کا کہا گیا۔اجلاس میں لاپتہ افراد کمیشن کے چئیرمین عہدے سے ہٹانے کے لیے وزیراعظم سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا۔لاپتہ افراد کمیشن کے چئیرمین کا عہدہ نہ رکھنے کی ڈائریکشن دینا کمیٹی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پر لگائے گئے حیران کن الزامات کی شفافیت اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیشن نے کہا کہ اس نے جاوید اقبال کے خلاف ‘جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا’، جو جبری گمشدگی سے متعلق انکوائری کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایچ آر سی پی کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے کہ یہ الزامات ایک خاتون کی جانب سے لگائے گئے تھے جنہوں نے جسٹس (ر) اقبال سے ان کے بطورِ چیئرمین سی او آئی ای ڈی رابطہ کیا تھا۔کمیشن نے کہا کہ جاوید اقبال نے نہ صرف مبینہ طور پر دو حیثیتوں سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے بلکہ وہ ان الزامات کا جواب دینے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ ان کے اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر یہ الزامات ثابت ہو جائیں تو انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ ایچ آر سی پی تحقیقات کے اس مطالبے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ہونے والی کارروائی پر نظر رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں