ہم پہلے دن سے ہی حکومت میں آنے کے حق میں نہیں تھے،جاوید لطیف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ پہلے دن سے ہی ہم حکومت میں آنے کے حق میں نہیں تھے۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی تو بتا چکے ہیں کہ کیسے بنچ بنتے ہیں، ہم پر الزام تھا جی ہم نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا۔پی ٹی آئی والے رات میں سپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ ان کے جذبات ہیں۔جاوید لطیف نے کہا کہ 2018 میں شیر کی پرچی والے کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا جاتا تھا۔ہمارا حال یہ ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے۔ہم کس کے خلاف جتھے لے کر جائیں، مسائل کے حل کے لیے پلیئنگ فیلڈ دینا ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے دن سے ہی ہم

حکومت میں آنے کے حق میں نہیں تھے۔میں کابینہ میں کہتا رہا ہوں اگر گوگی، بشریٰ اور بنی گالا پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے تو کس لیے حکومت میں ہیں۔کہتا رہا ہوں اگر بےگناہ نوازشریف کی سزائیں ختم نہیں کرا سکتے تو کس لیے حکومت میں ہیں۔لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان کو لاڈلا اور دوسروں کو بھارتی سمجھا جاتا ہے۔عمران خا پاکستان کو سری لنکا بنانے کی طرف لے جا رہا ہے۔لیڈر لیس احتجاج پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو گا اور یہ بات اپنی طرف سے کر رہا ہوں۔اس سے قبل جاوید لطیف نے کہا کہ خونی انقلاب آ گیا تو ذمہ داری ہم پر نہیں ہو گی۔جب ہم کہہ رہے تھے کہ الیکشن کرائے جائیں تو کہتے تھے کہ ستمبر سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے۔حالات سے خونی منظر ہو سکتا ہے۔اتوار کو نیشنل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر ملک میں بے یقینی اور انتشار پھیلانے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سیاسی جماعتوں پر بار بار بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button