وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کو آگے کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، چودھری پرویز الٰہی

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماء اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کو آگے کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے،ہمارے 11 ارکان ملک سے باہر ہیں، ان کو آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔جیو نیوز کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کا وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب کیلئے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے سے متعلق کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کو آگے کر نے کیلئے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگیں گے،ہمارے 11 ارکان ملک سے باہر ہیں، ان کو آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ الیکشن کے بائیکاٹ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا،الیکشن کے بائیکاٹ سے متعلق چلنے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔سرکاری نیوز اے پی پی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کیلئے سپیکر قومی اسمبلی کو نامزد کرنے کیخلاف اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے اس منصب پر دوبارہ انتخاب کا حکم دے دیا ۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ منحرف ارکان کے ووٹ نکال کردوبارہ گنتی کی جائے ،رائے شماری میں جس کی اکثریت ہوگی وہ جیت جائے گا۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی تو آرٹیکل 130 چار کے تحت سیکنڈ پول ہو گا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کا منحرف ارکان اسمبلی کے حوالے سے فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے، عدالت نے مختصر تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ نئے الیکشن کا حکم نہیں دیا جا سکتا،دوبارہ الیکشن کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو گا۔لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہم پریزائیڈنگ آفیسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے، عدالت پریزائیڈنگ آفیسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 25 ووٹ نکالنے کے بعد اکثریت نہ ملنے پر حمزہ شہباز وزیرِاعلیٰ پنجاب کے عہدے پر قائم نہیں رہیں گے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ گورنر پنجاب یکم جولائی کو چار بجے سہ پہر اسمبلی اجلاس کریں، پنجاب اسمبلی کا اجلاس الیکشن ہونے تک ملتوی

نہیں کیا جائے گا، الیکشن مکمل ہونے کے بعد نئے وزیرِاعلیٰ کا حلف 2 جولائی کو دن 11 بجے یقینی بنایا جائے۔اپیلوں پر سماعت کے دوران عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وزیر اعلی ٰپنجاب کے لیے دوبارہ انتخاب ہونے جارہا ہے لہذا اپنے تمام تحفظات دور کریں۔عدالت نے ڈی سیٹ ہونیوالے 25 ووٹ نکال کر ووٹنگ کا حکم دیتے ہوئے درخواستوں کو نمٹا دیا ۔عدالت عالیہ کے لارجر بینچ نے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا۔ عدالت کے فاضل بینچ کے ایک رکن جسٹس شاہد محمود سیٹھی نے فیصلے سے مشروط اختلاف کیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر

بینچ نے تحریک انصاف کے سبطین خان اور سپیکر چوہدری پرویز الہی سمیت دیگر کی اپیلوں پر سماعت کی۔جمعرات کے روز سماعت پر پنجاب حکومت کے وکیل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت ،صدر مملکت کی جانب سے احمد اویس ،سپیکر پرویز الہی کی جانب سے بیرسٹرعلی ظفر، امتیاز صدیقی اور تحریک انصاف کی جانب سے اظہر صدیق پیش ہوئے جبکہ حمزہ شہباز کی طرف سے منصور عثمان پیش ہوئے ۔عدالت عالیہ کے پانچ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس شاہد جمیل خان،جسٹس شہرام سرور چوہدری،جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں