دوسرے ممالک سے اگر قرضہ لینا ہے تو خودداری کی بات نہ کریں، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک سے اگر قرضہ لینا ہے تو خودداری کی بات نہ کریں،ملک ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے نکل چکا ہے، آئی ایم ایف سے ساتویں اور آٹھویں قسط ایک ساتھ ملے گی،وزیراعظم اور ان کے بیٹوں کے فیکٹریوں پربھی سپرٹیکس لگایاہے، پاکستان کو خودکفیل بننا ہے تو پاکستانیوں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، بلڈرز، فرنیچر کا کام کرنے والوں کونیٹ ٹیکس میں لے کر آؤں گا،ملک بھر کے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں، ہمیں ٹیکس کلیکشن کے معاملات کودرست کرناہے،حالات اب بھی مشکل ہیں، ہم بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کوئی بھی ملک اگر فیصلہ کرلے کہ اس نے مستحکم اور پائیدار ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہیں تو ہم بھی 10 سے 20 سال کے عرصے میں قوم کو غربت کے لیول سے نکال کر مڈل کلاس بنا سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ان مشکلات حالات میں بھی وزیر اعظم نے غریب طبقے کیلئے سستا پیٹرول اور ڈیزل کے نام سے ایک اسکیم نکالی ہے جس کے تحت ہم نے 60 لاکھ خاندانوں کو یہ دعوت دی کہ وہ خود کو 786 پر رجسٹرڈ کرائیں جس میں 40 لاکھ لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور 10 لاکھ لوگوں کو رجسٹرڈ کیا جاچکا ہے، اسکیم کے تحت آئندہ پورے سال تک 2 ہزار روپے دیے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان کو بڑے خسارے کے 4 بجٹ کا سامنا تھا، اس سال بھی 5 ہزار ارب روپے کا بجٹ خسارہ تھا، گزشتہ 4 سال کیدوران 20 ہزار ارب قوم کو مقروض کردیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے مشکل فیصلے کیے، پی ٹی آئی حکومت نے 71 برسوں کے دوران لیے گئے قرضے کا 80 فیصد قرض حاصل کیا، اگر آپ نے دوسرے ممالک کے ساتھ پیکجز اور امداد لینی ہے تو پھر خودداری کی بات نہیں کریں، اگر قوم اپنی معیشت کے حجم کا 9 فیصد بھی ٹیکس نہیں دے رہی تو پھر خودداری کی بات نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیٹرول اور ڈیزل کی سبسڈی پر 120 روپے کے خسارے کا سامنا تھا، یہ سبسڈی ملک کو دیوالیہ کردیتی، اس لیے ہم نے

پیٹرول و ڈیزل مہنگا کیا، ہمیں قوم پر فخر ہے کہ اس نے صورتحال کو سمجھا ہے، غریب لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ہے، اس لیے ہم امیر لوگوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لے کر آئے، ہم نے وزیر اعظم، ان کے بیٹوں اور اپنی کمپنی سمیت امیر لوگوں پر ٹیکس لگایا، ہم نے 4 فیصد سے 10 فیصد تک سپر ٹیکس لگایا ہے، ہم دکانداروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم بلڈرز، ریئل اسٹیٹ ایجنٹس، کار ڈیلرز، فرنیچر بنانے والوں سمیت سب کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، مشکلات نہیں کریں گے لیکن امیر پاکستانیوں کو ملک کی ترقی و خودداری میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حالات

مشکل ضرور ہیں مگر اب ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے، پاکستان خطرے سے نکل چکا ہے، ہم ریلیف دینے کیلئے بھی اقدامات کر رہے ہیں، ہم بیجوں، سولر پینلز پر سے ٹیکس ختم کیا، فارماسیوٹیکل صنعت کے معاملات کو حل کردیا ہے، ملک کی معیشت، سلامتی اور خودمختاری کو اپنی سیاست پر ترجیح دیں گے، مشکل فیصلوں سے دریغ نہیں کریں گے اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں