ڈالر کی قیمت میں کمی صرف ایک دن ہی برقرار رہ سکی،امریکی کرنسی پھر مہنگی ہوگئی

کراچی (نیوز ڈیسک) ڈالر کی قیمت میں کمی صرف ایک دن ہی برقرار رہ سکی ، امریکی کرنسی پھر مہنگی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز 5 روپے کمی ہونے کے بعد آج انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے ، جس کے نتیجے میں انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں ایک روپے 27 پیسے کا اضافہ ہوا ، جس کے بعد انٹر بینک میں ایک ڈالر 208 روپے 50 پیسے کا ہوگیا۔اس کے علاوہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کے باعث کاروبار معطل کردیا گیا ، کاروبار کےدوران100 انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی اور دوران

کاروبار انڈیکس 40 ہزار 663 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا ۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی اس وقت دیکھی گئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ، ان صنعتوں میں سیمنٹ، شوگر، اسٹیل، آئل اینڈ گیس سیکٹر، ٹیکسٹائل، بینکنگ، فرٹیلائز، سگریٹ، آٹوموبائل اور بیوریجزانڈسٹری سمیت دیگر شامل ہیں۔حکومت کی جانب سے صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا فیصلہ تباہ کن قرار دے دیا گیا ، اس ضمن میں سینئر صحافی کامران خان نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور زرداری حکومت کا ایک اور تباہ کن فیصلہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا ہے کیوں کہ اس فیصلے سے صنعتیں بیٹھ جائیں گی ، اسی لیے فیصلے کے ایک منٹ کے اندر پاکستان اسٹاک ایکسچیج 100 انڈیکس پوائنٹس ڈھیر ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب بلآخر اس ٹیکس کا بوجھ بھی عام پاکستانی تک پہنچے گا اور وہ آپ کو نہیں چھوڑے گا۔ادھر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات مزمل اسلم نے کہا ہے کہ مارکیٹ اور معیشت کو 2 ہزار وولٹ کے جھٹکے کے ساتھ قوم کو 1990 والا پاکستان مبارک ہو ، انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے اعلان کے بعد مارکیٹ اور معیشت کو 2 ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا ، امپورٹڈ حکومت کے معاشی فیصلوں کے بعد پاکستان اپنی تاریخ کی بد ترین غربت اور مہنگائی دیکھنے جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے موجودہ حکومت نے پاکستان کی معیشت کا آخرکار گلا گھونٹ دیا ، ملک میں مہنگائی ، بے روزگاری اور افراتفری کا نفاذ کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں