تمباکو انڈسٹری بیٹل آف مائینڈ کے نام پر کاروبار اورانعامات کا جھانسہ دے کرطلبا کو ٹریپ نہ کرے، ثناء اللہ گھمن

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکریٹری وڈائریکٹرآپریشن ثناء اللہ گھمن نے کہاکہ پاکستان کی نصف سے زائد آبادی ہماری نوجوان نسل پرمشتمل ہے،آنے والے کل کوبہتر بنانے کے لئے آج کی نوجوان نسل کاصحت مند ہوناضروری ہے،نوجوان ہمیشہ تمباکوانڈسٹری کااول نشانہ رہے ہیں،کیوں کہ نوجوان بچے اوربچیاں ہی دورحاضر اورمستقبل کے خریدارتصورکیے جاتے ہیں،تمباکوانڈسٹری کابزنس آئیڈیاز کے نام پر تعلیمی اداروں میں سیشن کاآغازخطرے کی گھنٹی بجارہاہے،تمباکوانڈسٹری نے نوجوان نسل کواپنی طرف راغب کرنے کے لیئے مختلف تعلیمی اداروں کارخ کیاہے،

جہاں پرطلباکورجسٹرکروایاجارہاہے،مستقبل کے لئے نوجوان نسل کوباروزگارکرنے کیلئے بزنس آئیڈیازدینے کاکام حکومت اورتعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے،لہذاحکومت اورتعلیمی اداروں کے سربراہان کوچاہیے کہ اس ذاتی مفادکے لیے شروع کی جانے والی مہم کافوری نوٹس لیں۔ ثناء اللہ گھمن کاکہناتھاکہ دنیا بھر میں 200 سے زائد ٹوبیکوکے برینڈز مارکیٹوں میں فروخت ہوتے ہیں۔تمباکواپنے نصف صارفین کاقاتل ہے۔’بیٹل آف مائنڈز‘ کے نام پر طلبا کے لئے نیاجال بناجارہاہے،اس مہم کے تحت طلباکومختلف کاروباری تجاویز دے کر تمباکومصنوعات کی جانب راغب کیاجائے گا ِ،جس میں طلباکو 50,000 GBP تک کے انعامات حاصل کر نے کاجھانسہ دیاجارہاہے،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہرسال 1,70,000سے زائدافراد تمباکوکے استعمال سے مرتے ہیں،615ارب روپے سے زائد رقم تمباکوکی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں پرخرچ ہوتی ہے،ان حقائق کوپس پشت ڈال کربیٹل آف مائینڈ کی مہم نوجوان بچوں اوربچیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوگی،یہی بچے صحت مندزندگی اور تمباکو کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے مابین فرق کرنابھول جائیں گے اورنہ چاہتے ہوئے ان کی مہم کاحصہ بن جائیں گے۔حکومت اورتعلیمی اداروں کے سربراہان اس مہم کا فوری نوٹس لیں،تاکہ ہمارے بچے اوربچیاں تمباکوکے استعمال سے محفوظ رہ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں