پہلے ریاست پھر سیاست ،وزیر اعظم نے اپنی ترجیحات کا اعلان کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے تمام شرائط طے ہوگئیں اگر کوئی نئی شرط نہ آئی تو معاہدہ جلد ہوجائے گا،حکو مت اپنی بقیہ14ماہ کی مدت پوری کریگی، پہلے ریاست پھر سیاست ، ریاست بچتی ہے تو سیاست بچ جائیگی ، چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گی ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، جمعرات کو لیگی سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے آپ لوگوں کو بلایاگیا ہے ، گزشتہ حکومت کو ساڑھے تین سال عوام کا کوئی خیال نہیں آیا حکومت میں آئے تو بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا ،

بعض ساتھیوں کی رائے تھی کہ الیکشن ریفارمز کر کے الیکشن میں جایا جائے، اب ہم یکسو ہیں کہ حکومت اپنی 14 ماہ کی مدت پوری کریگی۔ماضی کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط پر عمل درآمد نہیں کیا، انہوں نے آئی ایم ایف معاہدے کی دھجیاں اڑائی ہیں ،آئی ایم ایف سے شرائط طے پا گئی ہیں اگر کوئی اور شرائط نہ لگائے تو معاملہ طے ہو نے جا رہا ہے لیکن آئی ایم کے معاہدے کے نتیجے میں کیا راتوں رات مہنگائی آجائے گی ایسا ہرگز نہیں ہے، ہمیں اپنا مالیاتی نظام مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں اسلامی ممالک سے تجارت کے ذریعے بھی مدد ملے گی، لیکن یہ ہماری اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شبانہ روز محنت کریں اور خواہشات کو قربان کردیں، ہم ہمت کرکے وہ فیصلے کریں جس سے ملک خوشحال کی جانب گامزن، ابھی مشکلات آنی ہیں ہمیں اپنی ذات سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کو بیوائوں ،یتیموں اور غریبوں کیلئے کچھ نہ کرنے کی تڑپ تھی، ایسی کوئی مثال نہیں کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں اور پاکستان میںکم کی جائیں جب گزشتہ حکومت کو مارچ میں شکست نظر آنے لگی تو تیل کی قیمتیں کم کر دیں، سابق حکومت نے تیل کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ خود ہی کر لیا، کسی کابینہ سے نہ منظوری لی اور نہ ہی کسی اور فورم پر اس حوالے سے کسی کو اعتماد میں لیا ، اربوں روپے کی سبسڈی دیکر کارٹلز کی موجیں کرادی گئیںاور آنیوالی حکومت کیلئے جا ل بچھایا، سابق حکومت نے 30 روپے فی لیٹر لیوی کا معاہدہ کیا ، 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا معاہد

ہ کیا، ماضی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں ، چین نی2.3ارب ڈالر دے کر ہمار ا مشکل گھڑی میں ساتھ دیا جس پر ہم چین کے شکر گزار ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر چین کب تک ہماری مد د کر ے گا،چین اور سعودی عرب بھی سوچتے ہوں گے کہ یہ کب تک مانگتے رہیں گے اور کب یہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو ں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار امیر افراد کی آمدنی پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ہم صاحب ثروت افراد کی نیٹ انکم پر ٹیکس عائد کرنے جارہے ہیں، گزشتہ حکومت نے چین کو بھی ناراض کیا، دوست ممالک کو ناراض کرنا کہاں کی دانش مندی ہی یہ ہے

نیا پاکستان آپ چین سے مدد لیں اور اس پر الزامات بھی عائد کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم سے غلط بیانی نہیں کروں گا اور سچی بات کروں گا، قوم کو ہرگز دھوکا نہیں دوں گا اور یہ نہیں کہوں کہ ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے، اربوں ڈالر پاکستان لے آئیں گے اور نیا پاکستان بنادیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پہلے ریاست پھر سیاست ، ریاست بچتی ہے تو سیاست بچ جائیگی ، ماضی میں جھانکنے یا یہ رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا ، نیا پاکستان تو دور کی بات اگر ہم صرف قائد اور اقبال کے پاکستان کی طرف چل پڑیں تو پرانے پاکستان واپس لائیں گے ،انشاء اللہ ۔انہوں نے

کہا کہ خدا اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت بدلنے کے اٹھ کھڑی ہو، اس قوم کو اللہ تعالی نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال رکھا ہے، ایک مثال ریکوڈک ہی ہے جس سے ہم اب تک استفاد نہیں کرسکے یہ قوم کا نہیں بلکہ قیادت کا قصور ہے اس معاملے کو غلط طریقے ہینڈل کیا گیا۔ ہم فیصلہ کر لیں کہ تاریخ کا رخ موڑ دیں گے تو اللہ راستہ دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں