شہبازشریف جس آئی ایم ایف معاہدے کی بات کررہے اس میں تیل150روپے لیٹر ہے، اسد عمر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا نے کہ شہبازشریف جس معاہدے کی بات کررہے اس میں تیل 150روپے لیٹر ہے، شہباز شریف آئی ایم ایف معاہدے کو چوری کی ڈھال بنارہے ہیں، مستحکم معیشت کا بیڑہ آٹھ ہفتوں میں غرق کردیا گیا۔ ہم نیوز کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ شہباز شریف کو آٹھ ہفتوں میں عوام مزید دو عدسوں سے دیکھتے اور سنتے ہیں، اچھی بھلی مستحکم اور پھلتی پھولتی معیشت کا بیڑہ محض آٹھ ہفتوں میں غرق کردیا، شہبازشریف نے نالائقی و نااہلیت میں جو نام پیدا کیا وہ بھی غیرمعمولی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ شہبازشریف

جس معاہدے کی بات کررہے ہیں اس میں تیل 150روپے لیٹر دستیاب تھا، شہباز شریف کی جانب سے آئی ایم ایف معاہدے کو اپنی چوری کی ڈھال بنایا جارہا ہے، آئی ایم ایف معاہدے کو وزیراعظم بھیک مانگنے کا جواز بنا رہے ہیں۔6 ہزار ارب کا ٹیکس جمع کرکے پاکستان تیزی سے خود کفالت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ مزید برآں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہفتے قبل اسی حکومت نے اکنامک سروے سائن کیا، اکنامک سروے میں ہر چیز ریکارڈ ہوئی ہے۔اکنامک سروے کی رپورٹ میں تحریک انصاف کی بہترین کارکردگی کی رپورٹ پر اسی حکومت نے دستخط کیے۔ پندرہ سال میں سب سے زیادہ زراعت ،جی ڈی پی،انڈسٹریل سیکٹر، ترسیلات زر میں ترقی تحریک انصاف کے دور میں ہوئی۔ یہ کس کو بےوقوف بنا رہے ہیں کہ ہمارے دور میں پاکستان دیوالیہ پر تھا، 466 ارب کا فارمولہ ان کو بتایا اور اب یہ اسے استعمال بھی کر رہے ہیں، اس سال کا مالیاتی خسارہ اب بھی 4.55 ٹریلین ہے۔انہوں نے کہا کہ پتا چلا ہے کہ ایک بجٹ اور آرہا ہے، ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈیبٹ سروسنگ کاسٹ کیا ہے؟اب تک جو باتیں ہوئیں وہ خانہ پوری بجٹ پر ہوئیں، ہمیں پتا چلا ہے کہ آئی ایم ایف نے ان سے مزید ٹیکسز لگانے کا کہا ہے۔ شوکت ترین نے اپنے بیان میں کہا کہ بار بار کہا جاتا رہا کہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہمارا بجٹ پروگریسو ہے، یہ سفید جھوٹ ہے،بجٹ میں ٹیکسز کی بھرمار ہے، ریلیف کہیں نظر نہیں آتا۔ہم نے

کامیاب جوان، صحت کارڈ، احساح پروگرام جیسے منصوبے شروع کر کے عوام کو ریلیف دیا، مگر اس حکومت نے یہ منصوبے بند کر دئیے ہیں۔ حکومت ان لوگوں پر ٹیکس لگا رہی ہے جو پہلے سے ہی ٹیکس کی ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ ہم نے پیٹرول پر زیرو ٹیکس رکھا،اب یہ 17 فیصد سیلز ٹیکس لگائیں گے،پیٹرول پر یہ حکومت 50 روپے لیوی بھی لگانے جا رہی ہے،اس سے مہنگائی کا طوفان آ جائےگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں