آئی ایم ایف نے حکومت سے مزید ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کیا ہے، ایک اور بجٹ آرہا ہے،شوکت ترین کا دعویٰ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے مزید ٹیکسز لگانے کا مطالبہ کیا ہے، پتا چلا ہے کہ ایک بجٹ اور آرہا ہے،اب تک جو باتیں ہوئیں وہ تو خانہ پُری بجٹ کیلئے تھیں۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہفتے قبل اسی حکومت نے اکنامک سروے سائن کیا، اکنامک سروے میں ہر چیز ریکارڈ ہوئی ہے۔اکنامک سروے کی رپورٹ میں تحریک انصاف کی بہترین کارکردگی کی رپورٹ پر اسی حکومت نے دستخط کیے۔ پندرہ سال میں سب سے زیادہ زراعت ،جی ڈی پی،انڈسٹریل سیکٹر، ترسیلات زر میں ترقی تحریک انصاف کے دور میں

ہوئی۔ یہ کس کو بےوقوف بنا رہے ہیں کہ ہمارے دور میں پاکستان دیوالیہ پر تھا، 466 ارب کا فارمولہ ان کو بتایا اور اب یہ اسے استعمال بھی کر رہے ہیں، اس سال کا مالیاتی خسارہ اب بھی 4.55 ٹریلین ہے۔انہوں نے کہا کہ پتا چلا ہے کہ ایک بجٹ اور آرہا ہے، ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈیبٹ سروسنگ کاسٹ کیا ہے؟اب تک جو باتیں ہوئیں وہ خانہ پوری بجٹ پر ہوئیں، ہمیں پتا چلا ہے کہ آئی ایم ایف نے ان سے مزید ٹیکسز لگانے کا کہا ہے۔ شوکت ترین نے اپنے بیان میں کہا کہ بار بار کہا جاتا رہا کہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہمارا بجٹ پروگریسو ہے، یہ سفید جھوٹ ہے،بجٹ میں ٹیکسز کی بھرمار ہے،ریلیف کہیں نظر نہیں آتا۔ہم نے کامیاب جوان،صحت کارڈ، احساح پروگرام جیسے منصوبے شروع کر کے عوام کو ریلیف دیا، مگر اس حکومت نے یہ منصوبے بند کر دئیے ہیں۔ حکومت ان لوگوں پر ٹیکس لگا رہی ہے جو پہلے سے ہی ٹیکس کی ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ ہم نے پیٹرول پر زیرو ٹیکس رکھا،اب یہ 17 فیصد سیلز ٹیکس لگائیں گے،پیٹرول پر یہ حکومت 50 روپے لیوی بھی لگانے جا رہی ہے،اس سے مہنگائی کا طوفان آ جائےگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں