ڈالر 212 روپے کا ہوگیا،پتہ نہیں کس کمبخت نےآج چائے زیادہ پی لی ہے ،شہباز گل کا دلچسپ تبصرہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) "ڈالر 212 کا ہوگیا ہے۔پتہ نہیں کس کمبخت نے آج چائے زیادہ پی لی ہے ” یہ دلچسپ تبصرہ تحریک انصاف کےرہنما شہبا ز گل نے کیاہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "ڈالر 212کا ہوگیا،پتہ نہیں کس کمبخت نے آج چائے زیادہ پی لی ہے، انہوں نے چائے کو ملکی تاریخی کے ایک واقعہ سے جوڑتے ہوئے دوسری ٹویٹ کی کہ کسی دور میں ہم دشمن کو بھی چائے پلا کر بھیجتے تھے آج ہماری اپنی چائے خطرے میں ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر مںصوبہ بندی احسن اقبال نے دو پیالی چائے کےبجائے ایک پیالی چائے پینے

کا مشورہ دیا تھا،احسن اقبال کی نصحیت کے بعد سوشل میڈیاپر ممیز کا طوفان آگیا تھا اور سوشل میڈیا صارفین نے احسن اقبال کو شدید تنقید کانشانہ بھی بنایا تھا ، دلچسپ تبصرے کئے اور احسن اقبال کو بھی مفید مشورے دئیے،یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات احسن اقبال نے چائے کم پینے کا مشورہ دینے پر تنقید کرنے والوں کو جواب بھی دیا۔احسن اقبال نے چند روز قبل موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ ’قوم چائے کے ایک یا دو کپ کم کریں کیونکہ ہم جو چائے درآمد کرتے ہیں وہ بھی ادھار لے کر کرتے ہیں ۔پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ارسطو چائے کی پیالی کم کرکے معیشت ٹھیک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، عوام پر یہ کون لوگ مسلط کردئیے گئے ہیں شہباز شریف کپڑے بیچ کر آٹا سستا کر رہا تھا لیکن 20 کلو آٹا 300 روپے مزید مہنگا ہوگیا۔وفاقی وزیر نے مہنگائی سے ستائی عوام کو دو کے بجائے ایک پیالی چائے پینے کی نصیحت کی تو ان کے اس بیان پر عوام نے سوشل میڈیا پر شدید ملا جلا رد عمل دیا تھا۔ پاکستان میں چائے کا استعمال کتنا ہے اس حوالے سے ادارہ شماریات کی ایک رپورٹ میں ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے۔ادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستانی جولائی2021 سے مئی2022 تک یعنی صرف 11 ماہ کے دوران 58کروڑ 9 لاکھ ڈالرزکی چائے پی گئے۔تاہم اب وفاقی وزیر کی جانب سے بھی اس پر ردعمل دیا گیا ہے۔ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے تحت پاکستان کی اقتصادی صلاحیت کو بہتر بنانے کے

حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 500 ملین ڈالر سے زائد ہم چائے امپورٹ کرنے والا ملک ہیں ،میں نے چائے کم پینے کا کہا تو اسکا مذاق بنا لیا گیا،یہی بات جب آسٹریلیا میں ایک وزیر نے بجلی بحران پر ایک بلب بند کرنے پر کہی تو کسی نے مذاق نہ بنایا ،سنجیدہ چیزوں پر مذاق نہیں ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں