امریکا حکومتیں تبدیل ہمارے نہیں اپنے مفاد کیلئے کرتا ہے،عمران خان کا خطاب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا حکومتیں تبدیل ہمارے نہیں اپنے مفاد کیلئے کرتا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرو انااور ہندوستان کی بات منوانا امریکی ایجنڈا ہے، میرا سوال ہے کہ کیا ملک ڈالر لینے سے پاکستان ترقی کرجائے گا؟انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خرم دستگیر نے آرمی چیف کی تعیناتی والی جو بات کی یہ قابل غور بات ہے، اس کا مطلب وہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر کوئی اور آر می چیف آئے گا تو احتساب رک جائے گا، اس کا مطلب یہ چاہتے وہ آرمی چیف آئے جو ان کی مدد کرے،میں واضح کرنا چاہتا ہوں اللہ کو

حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف بنانا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی ہمارا یہ ایشو تھا ہی نہیں، میرے ذہن میں تھاجب وقت آئے گا تومیرٹ پر جو بہتر ہوگا اس کو آرمی چیف بنا دیں گے۔میں نے کبھی زندگی میں اور کرکٹ میں میرٹ کے خلاف کام نہیں کیا، شوکت خانم میں بھی کبھی میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، نمل یونیورسٹی میں بھی میرٹ کے خلاف کوئی آدمی نہیں لگایا، حکومت میں تھا تو کوئی بتائے میں نے اپنے رشتہ دار کو لگایا تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنا آرمی چیف لے کر آؤں گا، نوازشریف اپنی چوری بچانے کیلئے آرمی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، آج دیکھ لیں ہر ادارے پر اپنے لوگ بٹھا دیے ہیں، نوازشریف نے ہمیشہ میرٹ کی خلاف ورزی کی اور اپنی پسند کا آرمی چیف لے کر آیا،کیونکہ پیسا بچانا ہے، میں تو 26سال سے جہاد کررہا ہوں، مجھے کہا جاتا تھا اگر آپ نوازشریف کے خلاف ہیں تو زرداری سے دوستی کرلیں میں کہتا تھا یہ دونوں چور ہیں، یہ دونوں وقت آنے پر اکٹھے ہوجائیں گے، مجھے شک نہیں تھا جب میں اقتدار میں آؤں گا یہ دونوں اکٹھے ہوجائیں گے۔ان کا کام چوری کرنا اور بچانا ہے، یہ ہر ادارے کو کنٹرول کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی چوری بچانی ہوتی ہے،یہ ایک دوسرے کو چور کہتے تھے تو یہ ایک دوسرے کیلئے سچ بولتے تھے، لیکن یہ الیکشن جیتنے کیلئے ایک دوسرے کو چور کہتے تھے، آئی ایس آئی اورایم آئی کے پاس ان کی چوری کی رپورٹ ہوتی ہیں، اگر رپورٹ سامنے آئی تو ان کی حکومت چلی جائے گی،

دونوں بار90ء میں ان کی حکومت چوری کرنے پر گئی، عمران خان کو نہیں چاہیے کہ اپنا آرمی چیف لگائے،ہم تو چاہتے ہیں فوج کا ادارہ مضبوط ہو، مضبوط تب ہوگا جب میرٹ ہوگا،لیکن ان کو خوف تھا عمران خان جنرل فیض کو لگا دے گا، کیونکہ ان کو جنرل فیض سے خوف ہے، کہ ان کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا جب حکومت تبدیل کرتا ہے تو کیا وہ دوسرے ممالک کی بہتری کیلئے کرتا ہے، اوپر سے تووہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں جمہوریت چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد کیلئے حکومتیں تبدیل کرتا ہے، امریکا حکومتیں تبدیل ہمارے نہیں اپنے مفاد کیلئے کرتا ہے، کیا امریکا کو

اڈے دینا ہمارے مفاد میں ہے؟کیا ہمیں پتا نہیں چلا کہ دہشتگردی کی جنگ میں جو ہماری تباہی ہوئی، اسلام آباد فوٹریس بنا ہوا تھا خود کش حملے ہورہے تھے، سرمایہ کار دور یہاں کرکٹ ٹیم دورہ نہیں کرتی تھی ، تب بھی ہمارے سربراہ کو دھمکی دی گئی تھی ، میری اسمبلی میں تقریر ہے جب وزیرستان میں فوجیں بھیجنا شروع کیں، میں ان کو علاقوں کو بہتر جانتا تھا کیونکہ میں نے ٹریول بُک لکھی تھی، یہ سب کو پتا ہونا چاہیے کہ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ انگریز فوجی قبائلی علاقوں میں مرا تھا، 1947تک وہ مرتے رہے تھے،باقی ہندوستان میں امن تھا، 1935میں آدھی برٹش آرمی وزیرستان

کے باہر تھی،قبائلی علاقوں میں پورا امن تھا، کوئی پولیس چوکی نہیں تھی لیکن ہم نے بڑا ظلم کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا جب حکومت تبدیل کرتا ہے تو میڈیا پر پیسا چلتا ہے اور بدنام کرتے ہیں، مجھے طالبان خان کہا گیا تھا۔میں جنرل اورکزئی سے ملا، وہ اس وقت قبائلی علاقے میں آرمی کے کمانڈنٹ تھے، وہ کہتے کہ ہم نے امن معاہدہ کیا، لیکن امریکا کا وفد آیا ، انہوں نے ڈرون حملے کیے اورامن معاہدہ تڑوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب کہا اڈاے نہیں دیں گے تو یہ ہمارا مفاد ہے، میں کبھی خود کو اینٹی امریکا نہیں سمجھتا ، ہمیں ان سے کبھی تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیں۔لیکن کیا ہمیں ٹشو پیپر

کی طرح استعمال ہونا چاہیے، ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرو، ہندوستان کی بات مانو، لیکن کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے، جس دن اسرائیل کو تسلیم کریں گے تو سمجھ جاؤ فلسطین کا کوئی حق نہیں رہا، اس کے ساتھ کشمیریوں کا بھی کوئی حق نہیں رہے گا اور کشمیر ایشو ختم ہوجائے گا۔ہمارے دور میں اقوام متحدہ میں ایشو کو اٹھایا گیا۔میرا سوال ہے کہ کیا ملک ڈالر لے کر اور اپنا نظریہ ختم کرکے پاکستان ترقی کرجائے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں