اسٹیبلشمنٹ پاکستانی سیاست کا کھلاڑی ہے، نیوٹرل کیسے ہو سکتا ہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نیوٹرل نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اطلاعات اور تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ پاکستانی سیاست کا کھلاڑی ہے۔ یہ اس طرف ہوں گے یا دوسری طرف، نیوٹرل نہیں ہیں، پاکستان میں اسٹیبلیشمنٹ اور عدلیہ کا کردار سب کے سامنے ہے، اسٹیبلیشمنٹ کیسے نیوٹرل ہو سکتی ہے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے حمزہ شہباز کو بچانے کیلئے مخصوص نشستوں کا فیصلہ دیا، اب لاہور ہائیکورٹ میں جو ہو رہا ہے کیا وہ کو نظر نہیں آ رہا؟۔

لاہور ہائیکورٹ میں اس کیس کی سماعت ہی نہیں ہو رہی، ہمیشہ سماعت ملتوی ہو جاتی ہے۔اس سے قبل تحریک انصاف کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے وزیرخارجہ نے کہا ہندوستان سے تعلقات بڑھانے چاہئیں ،ہندوستان سے تعلقات کی بہتری، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور افغانستان میں امریکہ کو اڈے دینے کیلئے ماحول بنایا جارہا ہے۔سابق وزیر نے کہاکہ اس ایجنڈے میں عمران خان کی موجودگی میں کامیابی ناممکن تھی ۔فواد چوہدری نے کہاکہ اس ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لئے سائفر بھیج کر تحریک عدم اعتماد کامیاب بنائی گئی، خرم دستگیر نے مان لیا رجیم چینج کرنے کے بعد کیسز معاف کردئے جائیں گے۔ سابق وزیر نے کہاکہ پی ٹی آئی کے 10 ایم این ایز کو ٹارگٹ کیا گیا، اس کے بعد 6 مزید ایم این ایز سے رابطہ کیا گیا۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ٹوٹل 22 ایم این ایز اس ایجنڈے کا حصہ بنے، رجیم چینج کے معاملے عوام کا سب سے بڑا ردعمل پریڈ گراونڈ کے جلسے میں آیا، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے کہا یہ سازش بیرونی ہے، اکتوبر سے پہلے چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہم الیکشن کیلئے تیار نہیں۔ سابق وزیر نے کہاکہ سپریم کورٹ سے روز کہتے ہیں سائفر پر کمیشن بنائے، الیکشن کمیشن کو صدر نے خط لکھا اسپیکر نے بھی کہا کمیشن بنائے، آپ کی مرضی ہے نہیں بنانا تو نہ بنائے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے اوورسیز ہمیں سپورٹ کررہے تھے ہمارا معاشی نظام بہتر تھا۔انہوں نے کہاکہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ رکھا گیا ہے، کسی بھی وقت حمزہ شہباز کا معاملہ لڑک سکتا ہے، اس وقت عوام کی طرف جانا واحد حل ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام سے ڈر رہی ہیں کیونکہ یہ عوام کے منتخب کردہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں