گھر پر ڈاکہ پڑے تو کیا چوکیدار نیوٹرل ہوسکتا ہے؟ عمران خان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اب ایسا موڑ آگیا ہے کہ نیوٹرل راستے کا گیئرہی نکل گیا ہے، گھر پر ڈاکہ پڑے تو کیا چوکیدار نیوٹرل ہوسکتا ہے؟آپ ایک فیکٹری پر چوروں کو بٹھا دیں وہ بند ہوجائے گی، پھر ملک کیسے چل سکتا ہے؟ ان چوروں کو کسی صورت قبول نہیں کروں گا۔انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خرم دستگیر نے آرمی چیف کی تعیناتی والی جو بات کی یہ قابل غور بات ہے، اس کا مطلب وہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر کوئی اور آر می چیف آئے گا تو احتساب رک جائے گا، اس کا مطلب یہ چاہتے وہ آرمی چیف آئے

جو ان کی مدد کرے،میں واضح کرنا چاہتا ہوں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف بنانا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی ہمارا یہ ایشو تھا ہی نہیں، میرے ذہن میں تھاجب وقت آئے گا تومیرٹ پر جو بہتر ہوگا اس کو آرمی چیف بنا دیں گے۔میں نے کبھی زندگی میں اور کرکٹ میں میرٹ کے خلاف کام نہیں کیا، شوکت خانم میں بھی کبھی میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی، نمل یونیورسٹی میں بھی میرٹ کے خلاف کوئی آدمی نہیں لگایا، حکومت میں تھا تو کوئی بتائے میں نے اپنے رشتہ دار کو لگایا تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنا آرمی چیف لے کر آؤں گا، نوازشریف اپنی چوری بچانے کیلئے آرمی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، آج دیکھ لیں ہر ادارے پر اپنے لوگ بٹھا دیے ہیں، نوازشریف نے ہمیشہ میرٹ کی خلاف ورزی کی اور اپنی پسند کا آرمی چیف لے کر آیا،کیونکہ پیسا بچانا ہے، میں تو 26سال سے جہاد کررہا ہوں، مجھے کہا جاتا تھا اگر آپ نوازشریف کے خلاف ہیں تو زرداری سے دوستی کرلیں میں کہتا تھا یہ دونوں چور ہیں، یہ دونوں وقت آنے پر اکٹھے ہوجائیں گے، مجھے شک نہیں تھا جب میں اقتدار میں آؤں گا یہ دونوں اکٹھے ہوجائیں گے۔ان کا کام چوری کرنا اور بچانا ہے، یہ ہر ادارے کو کنٹرول کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی چوری بچانی ہوتی ہے،یہ ایک دوسرے کو چور کہتے تھے تو یہ ایک دوسرے کیلئے سچ بولتے تھے، لیکن یہ الیکشن جیتنے کیلئے ایک دوسرے کو چور کہتے تھے، آئی ایس آئی اورایم آئی کے پاس ان کی چوری کی رپورٹ ہوتی ہیں، اگر رپورٹ

سامنے آئی تو ان کی حکومت چلی جائے گی، دونوں بار90ء میں ان کی حکومت چوری کرنے پر گئی، عمران خان کو نہیں چاہیے کہ اپنا آرمی چیف لگائے،ہم تو چاہتے ہیں فوج کا ادارہ مضبوط ہو، مضبوط تب ہوگا جب میرٹ ہوگا،لیکن ان کو خوف تھا عمران خان جنرل فیض کو لگا دے گا، کیونکہ ان کو جنرل فیض سے خوف ہے، کہ ان کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا جب حکومت تبدیل کرتا ہے تو کیا وہ دوسرے ممالک کی بہتری کیلئے کرتا ہے، اوپر سے تووہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں جمہوریت چاہتے ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد کیلئے حکومتیں تبدیل کرتا ہے، امریکا حکومتیں تبدیل ہمارے نہیں

اپنے مفاد کیلئے کرتا ہے، کیا امریکا کو اڈے دینا ہمارے مفاد میں ہے؟کیا ہمیں پتا نہیں چلا کہ دہشتگردی کی جنگ میں جو ہماری تباہی ہوئی، اسلام آباد فوٹریس بنا ہوا تھا خود کش حملے ہورہے تھے، سرمایہ کار دور یہاں کرکٹ ٹیم دورہ نہیں کرتی تھی ، تب بھی ہمارے سربراہ کو دھمکی دی گئی تھی ، میری اسمبلی میں تقریر ہے جب وزیرستان میں فوجیں بھیجنا شروع کیں، میں ان کو علاقوں کو بہتر جانتا تھا کیونکہ میں نے ٹریول بُک لکھی تھی، یہ سب کو پتا ہونا چاہیے کہ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ انگریز فوجی قبائلی علاقوں میں مرا تھا، 1947تک وہ مرتے رہے تھے،باقی ہندوستان میں امن تھا،

1935میں آدھی برٹش آرمی وزیرستان کے باہر تھی،قبائلی علاقوں میں پورا امن تھا، کوئی پولیس چوکی نہیں تھی لیکن ہم نے بڑا ظلم کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا جب حکومت تبدیل کرتا ہے تو میڈیا پر پیسا چلتا ہے اور بدنام کرتے ہیں، مجھے طالبان خان کہا گیا تھا۔میں جنرل اورکزئی سے ملا، وہ اس وقت قبائلی علاقے میں آرمی کے کمانڈنٹ تھے، وہ کہتے کہ ہم نے امن معاہدہ کیا، لیکن امریکا کا وفد آیا ، انہوں نے ڈرون حملے کیے اورامن معاہدہ تڑوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب کہا اڈاے نہیں دیں گے تو یہ ہمارا مفاد ہے، میں کبھی خود کو اینٹی امریکا نہیں سمجھتا ، ہمیں ان سے کبھی تعلقات خراب نہیں

کرنے چاہئیں۔لیکن کیا ہمیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونا چاہیے، ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرو، ہندوستان کی بات مانو، لیکن کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے، جس دن اسرائیل کو تسلیم کریں گے تو سمجھ جاؤ فلسطین کا کوئی حق نہیں رہا، اس کے ساتھ کشمیریوں کا بھی کوئی حق نہیں رہے گا اور کشمیر ایشو ختم ہوجائے گا۔ہمارے دور میں اقوام متحدہ میں ایشو کو اٹھایا گیا۔میرا سوال ہے کہ کیا ملک ڈالر لے کر اور اپنا نظریہ ختم کرکے پاکستان ترقی کرجائے گا؟اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے امن میں ساتھ ہیں، تو یہ اینٹی امریکا نہیں ہے، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی

بات قائداعظم کا وعدہ تھا، پاکستان بڑے مقصد کا خواب تھا، کبھی کوئی قوم جوتے پالش کرکے چیری بلاسم بن کر قوم نہیں بنتی، قومیں نظریے سے بنتی ہیں۔ڈونلڈ لو نے جو کہا ، اس کی جرات دیکھو، میں نے دس بار سائفر پڑھا کہ کتنا بیہودہ آدمی ہے ، میں نے سی این این پر کہا اس کو ان بیہودہ آدمی کو بیڈ مینرز پر سزا ملنی چاہیے، اب کسی کو ایسا مراسلہ بھیجنے کی جرات نہیں ہوگی، یہاں کہا گیا ایسے مراسلے آتے رہتے ہیں۔ پاکستان اب فیصلہ کن موڑ پر آگیا ہے، لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کی خوداری، حقیقی آزادی کا فیصلہ کرنا ہے، یا ان چوروں ڈاکوؤں کو تسلیم کرنا،

مجھے مراسلے سے بھی زیادہ تکلیف ان کو چوروں کو مسلط کرنے کی ہوئی، 60فیصد کابینہ ضمانت پر ہے اربوں روپے کے کرپشن کیسز ہیں لیکن ان کو حکومت میں بٹھا دیا ہے، وہ کیا سمجھتے ہوں گے ہم کتنے گرے ہوئے ہیں کہ ہم ان چوروں کو چپ کر کے تسلیم کرلیں گے۔جب مجھے سازش کا پتا چلا تو میں سوچتا تھا کہ سازش کیسے ہوگی کیا کوئی شہبازشریف کو ملک کا وزیراعظم بنا دے گا؟میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی شہبازشریف کو ملک کا وزیراعظم بنا دے گا،میں نے ایک دن نیوٹرلز سے بات کی، کہ اس پر 16ارب کاایف آئی اے کا کیس ہے، 8ارب کا نیب میں کیس ہے،

اتنے اوپن اینڈ شٹ کیس کسی کے نہیں ہیں، نوازشریف کا تو پھر کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اپنے نام پر کچھ نہیں کیابلکہ بیٹی کے نام پر کیا لیکن یہ تو براہ راست خود اور اس کے بیٹے ملوث ہیں۔کہا جاتا ہے کہ آپ تیاری نہیں تھی ؟ تیاری اس لیے بھی نہیں کی تھی کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کو بناد یا جائے گا۔اس سیٹ اپ کو ہضم کروانے کیلئے اداروں کو برباد کرنا پڑے گا، پارلیمنٹ تو تباہ ہوگئی جہاں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے، پنجاب میں مذاق جمہوریت کی توہین ہے، مجرم نمبر ٹو کو پنجاب میں مسلط کرنے کیلئے جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، ایک ایوان اقبال اور ایک

پنجاب اسمبلی میں اجلاس چل رہا ہے۔الیکشن کمیشن کی کریڈیبلٹی ختم ہوچکی ہے، ہمیں پتا ہے وہ لاہور میں شہزادہ اور شہزادی کے ساتھ مل کر دھاندلی کی کوشش کررہے ہیں۔ان چوروں کے خلاف کھڑا ہونا معاشرے کی ذمہ داری ہے، اللہ نے برائی کے خلاف کسی کو نیوٹرل رہنے کی اجازت نہیں دی، انصاف اور اخلاقیات کو بمباری سے ختم نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کا ہر شعبہ اوپر جارہا تھا، میں نے اور شوکت ترین کو جاکر سمجھایا، نیوٹرلز کو سمجھایا تھا ملک سیاسی عدم استحکام برداشت نہیں کرسکتا، آج ساری معیشت نیچے جا رہی ہے، مہنگائی دو ماہ میں اتنی ہمارے ساڑھے تین سال میں نہیں ہوئی،گھر پر ڈاکہ پڑے تو کیا چوکیدار نیوٹرل ہوسکتا ہے؟آپ ایک فیکٹری پر چوروں کو بٹھا دیں وہ بند ہوجائے گی، پھر ملک کیسے چل سکتا ہے؟ ان چوروں کو کسی صورت قبول نہیں کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں