بحیثیت پاکستانی مجھے شرم آئی کہ ایک گورا ہمیں بتائے گا کہ ہم نے کیا کرنا ہے،مراد سعید

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی رہنماؤں کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پیشی ہوئی۔ مراد سعید، شیخ رشید اور پرویزخٹک کے خلاف قائم مقدمات کی سماعت ہوئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید کیس کی سماعت کے دوران جذباتی ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مرادسعید نے اپنی نشست سے کھڑے ہوکر جج سے مکالمہ کیا۔انہوں نے بغاوت کے مقدمات درج کرانے والوں کو بھی عدالت بلانے کی استدعا کی۔ مراد سعید نے عدالت میں کہا کہ کیا بغاوت کے مقدمات درج کرنے والے زیادہ محبت وطن ہیں؟ بیرونی طاقت کے ذریعے ملک کیخلاف سازش ہوئی۔ بحیثیت پاکستانی مجھے شرم آئی کہ

ایک گورا ہمیں بتائے گا کہ ہم نے کیا کرنا ہے،معاملے کابینہ سمیت اعلیٰ ترین عدلیہ کے سامنے اٹھایا گیا۔ہر فورم کا دروازہ کھٹکٹھایا لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔آئینی قانونی حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔احتجاج سے پہلے پاکستان بنانے والوں کے گھر پر حملہ کیا گیا۔علامہ اقبال کے گھر گھس کر ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔مظاہرین پر ربڑ بلٹس جبکہ بچوں اور خواتین پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔آپ ان لوگوں کو بھی بلائیں جو اس سازش کا حصہ بنے۔سوال یہ ہے کہ بغاوت ہم نے کی یا رجیم چینج کرنے والوں نے کی ؟۔غدار وہ ہے جو سازش کا حصہ بنے یا ہم جو اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔غدار وہ ہے جو امریکا کے سامنے لیٹا یا وہ جس نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا۔غدار وہ ہیں جو رجیم چینج کی بات کر رہے ہیں یا وہ جو ملکی خود مختاری کی بات کر رہے ہیں۔مراد سعید نے مزید کہا کہ یہ میرا گھر ہے،میں اس کا مالک ہوں کرایہ دار نہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران تھوڑ پھوڑ کے معاملے پر سیشن عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ سیشن جج کامران بشارت مفتی نے شیخ رشید، اسد عمر،شاہ محمود قریشی، شہریار آفریدی، قاسم سوری سمیت دیگر کی درخواست ضمانت منظور کر لیں اور عدالت نے ملزمان کو ہدایت کی کہ وہ تھانہ آئی نائن، تھانہ گولڑہ اور تھانہ ترنول میں درج مقدمات میں شامل تفتیش ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں