پرویز مشرف کیلئے ضروری ادویات اور علاج فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) سابق صدر پاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی صحت اور ان کی وطن واپسی سے متعلق اہل خانہ کا بیان سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں سابق صدر پاکستان کے اہل خانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق سرکاری اور غیرسرکاری ذرائع کی طرف سے رابطہ کیا گیا ، ہم اس کوشش پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں تاہم سابق صدر کو ادویات کی بلاتعطل فراہمی اور علاج کے انتظامات کی اہم ضرورت ہے جو فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں ، اس حوالے سے فیملی کو اہم طبی ،

قانونی اور حفاظتی چیلنجز پر غور کرنا ہوگا۔ دوسری طرف سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا کیوں کہ سابق صدر کی بات کرتے ہوئے سانس اکھڑتی ہے جس کی وجہ سے جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا جلد وطن واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے کیوں کہ ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ فضائی سفر سے اجتناب کریں۔ادھر متحدہ عرب امارات کی حکومت انہیں بوئنگ 777 طیارے کو ائیر ایمبولینس میں منتقل کرکے فراہم کرنے کو تیار ہے، جس میں وہ تمام آلات اور سہولیات میسر ہوں گی جو پاکستان منتقل ہونے کے لیے ضروری ہے ، اس حوالے سے طارق عزیز سابق صدر کی اہلیہ صہبا مشرف سے رابطے میں ہیں ، جو اپنے شوہر کے ساتھ دبئی کے ہسپتال میں ہیں۔طارق عزیز جو کہ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل بھی رہے، انہوں نے دی نیوز کو بتایا کہ جنرل پرویز مشرف وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی رائے آڑے آگئی ہے ، سابق صدر کے گھر والوں نے ان تمام افراد سے اظہار تشکر کیا ہے جنہوں نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پرویز مشرف کی صحت یابی کی دعائیں کی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں