پاکستان اگلے چند سالوں میں راکٹ کی طرح آگے بڑھے گا،وزیراعظم کا تقریب سے خطاب

لاہور (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں ، ہم 7کروڑ عوام کو 2 ہزار روپے دیں گے ، پاکستان اگلے چند سالوں میں راکٹ کی طرح آگے بڑھے گا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں انڈس اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ، ہمیں پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہو گا۔شہباز شریف نے کہا کہ اچھے لوگ کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کریں تو اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے،

ہمیں اپنی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے، قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے ذانی انا کو مارنا ہو گا۔ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بات چیت کا امکان مسترد کردیا ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی روز کہتا ہے کہ وہ ہمیں تسلیم نہیں کرتا تو کیا اس کے پاؤں پڑ جائیں کہ ہمیں تسلیم کرو؟ عمران خان سیاستدان تو ہے ہی نہیں، یہ ملک میں انتشار چاہتا ہے لیکن اب لانگ مارچ کی کہانی ختم ہو چکی ہے ، اس لیے عمران خان اگلی بار نہ پشاور کی طرف سے آ سکیں گے اور نہ ہی میانوالی کی طرف سے آنے دیں گے۔دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد آنے کا فیصلہ کرلیا ، عمران خان خیبرپختونخواہ ہاؤس میں کورکمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے ، اجلاس میں سیاسی صورتحال اور آئندہ لانگ مارچ سے متعلق مشاورت کی جائے گی،عمران خان 25 جون تک راہداری ضمانت پر ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نے کے پی ہاؤس میں پی ٹی آئی کورکمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کور کمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے، کور کمیٹی اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔دوسری جانب اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے استعفوں کے معاملے پر حکومتی اتحاد نے حکمت عملی مرتب کر لی اور پی ٹی آئی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے معاملے پر حکومتی اتحاد میں اتفاق ہو گیا ، 6 جون سے استعفوں کے معاملے پر باقاعدہ کاررائی کے آغاز کا امکان ہے ، حکومتی

اتحاد کی 25 سے 30 اراکین کو استعفیٰ دینے سے روکنے پر قائل کرنے کی کوشش ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ 3 اراکین شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے اسمبلی میں استعفوں کا اعلان کیا ، تینوں اراکین تصدیق کے لیے آئیں یا نہ آئیں استعفے منظور ہو سکتے ہیں ، مزید اراکین کی تقاریر کا ریکارڈ اسمبلی اسٹاف چیک کر رہا ہے ، مزید 3 سے 4 اراکین کے اسمبلی خطاب کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے ، جن اراکین کے خطاب کا ریکارڈ کیا جا رہا ہے ان میں اسد قیصر، قاسم سوری اور اسد عمر شامل ہیں ، پہلے مرحلے میں 3 سے 6 یا دس اراکین کے اسعتفے الیکشن کمیشن کو بھیجے جانے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں