بجلی کے بعد ملک میں پانی کا شدید بحران ، 22سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) توانائی کے بعد ملک پانی کے بھی شدید بحران سے دوچار ہوگیا ، آبی بحران نے 22 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ‘ تربیلا ڈیم گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے خالی ہے تو مجموعی آبی ذخائر میں پانی کی کمی 97 فیصد تک پہنچ گئی ۔ ارسا کی جانب سے جاری کردہ نے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ دریاؤں میں 56 فیصد کم پانی آ رہا ہے ، جب کہ تربیلا ڈیم گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے خالی اور منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ نہ ہونے کے برابر ہے ، دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ 1 لاکھ 25 ہزار کیوسک ہے، اس کے برعکس گزشتہ سال ان دنوں دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ 2 لاکھ 84 ہزار کیوسک تھا ،

ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ ایکڑ فٹ رہ گیا ہے ، جب کہ گزشتہ سال ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ 35 لاکھ ایکڑ فٹ تھا۔ارسا کی دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ اور پنجاب کو 60 ہزار کیوسک پانی دیا جا رہا ہے، جب کہ صوبہ پنجاب کے پانی کی طلب 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک اور صوبہ سندھ کے پانی کی طلب 1 لاکھ 30 ہزار کیوسک ہے، بلوچستان کو 15 ہزار اور کے پی کو 3 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ دریائے چناب اور جہلم سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ، دریائے جہلم میں پانی کی کمی کے باعث منگلا ڈیم آدھا بھی نہیں بھر پائے گا اور خدشہ ہے کہ منگلا ڈیم میں ربیع سیزن کے لیے بھی پانی نہیں ہو گا۔ادھر حکومت نے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ناممکن قرار دے دیا ، وزیر توانائی خرم دستگیر کہتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں البتہ آنے والے دنوں میں لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی ہوگی ، غروب آفتاب کے وقت مارکیٹس بند کرنے کی تجویز پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے ۔ سولر انرجی ایسوسی ایشن کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان میں اب درآمدی پٹرول، کوئلہ اور ڈیزل سے بجلی بنانا مکمل نہیں ، ہمیں سستی بجلی ہائیڈل، سولر اور ونڈ پر جانا ہوگا ، بجٹ میں سولر پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا جائے گا ، ہمیں مستقبل میں سستی بجلی پر انحصار کرنا ہوگا جب کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سابق حکومت کا 56 سو ارب روپے کا ملک کو مقروض کرکے جانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں