کچھ بھی کریں، لوڈ شیڈنگ دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہو،وزیراعظم شہباز شریف وزراء اور افسران پر برس پڑے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی زیر صدارت لوڈ شیڈنگ سے متعلق ہنگامی اجلاس ہوا۔اجلاس میں لوڈشیڈنگ کی وجوہات، محرکات اور سدباب کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں لوڈشیڈنگ پر اظہار برہمی کیا۔ ۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کچھ بھی کریں، 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ برداشت نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو مشکل سے نکالیں، کوئی وضاحت نہیں چاہیے، عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات چاہیے، عوام تکلیف میں ہیں، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراعظم نے وزراء اور افسران کی وضاحتیں مسترد کر دیں۔

دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 865 میگاواٹ ہے۔ ملک میں بجلی کی طلب 26 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار 135 میگاواٹ ہے۔ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق پانی سے 4 ہزار 622 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جبکہ سرکاری تھرمل پلانٹس ایک ہزار 134میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔ دوسری جانب نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 91پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی، بجلی کا ٹیرف بڑھنے کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی ہے، بجلی کی قیمت میں اضافے کے بعد فی یونٹ 24 روپے82 پیسے کا ہوجائے گا،بجلی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔جیو نیوز کے مطابق نیپرانے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے، بجلی کا بنیادی ٹیرف اس وقت 16روپے 91 پیسے فی یونٹ چارج کیا جارہا ہے، جبکہ اس ٹیرف میں مزید اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے، نیپرا نے اپنا یہ فیصلہ وزارت توانائی کو بھجوا دیا ہے، وزرات توانائی پر لازم ہوگا کہ نئی قیمتوں پر صارفین کو سبسڈی دینے سے متعلق ایک مہینے میں فیصلہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں