غداری کا مقدمہ کرکے مجھے راستے سے ہٹانے کی سازش کی جارہی ہے،عمران خان

بونیر(نیوز ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نیوٹرل رہنا اچھی بات ہے لیکن ملکی سالمیت بہت ضروری ہے ، سوویت یونین معاشی بدحالی کی وجہ سے ٹوٹا ، ملک مضبوط ہوگا تو ہم اس کا دفاع بھی کرسکتے ہیں ، کوشش کی جارہی ہے غداری کا مقدمہ کرکے مجھے راستے سے ہٹایا جائے ، یہ مجھ پر غداری کا مقدمہ چلانے کی باتیں کر رہے ہیں ، کیا نوازشریف اور زرداری مجھ پر غداری کا مقدمہ چلائیں گے؟ یہ چاہتے ہیں عمران خان ہٹ جائے اور راستہ صاف ہوجائے ، سب معاف ہوجائیں گے سب کو این آر او مل جائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ بونیر مین جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بونیر کے لوگ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں ، فضل الرحمان نےہمیشہ ذاتی مفادات کی سیاست کی ، نواز شریف نے کبھی نریندر مودی کیخلاف بات نہیں کی ، آصف زرداری اس ملک کی بہت بڑی بیماری ہیں ، آصف علی زرداری کو پیسے کی بیماری ہے ، پیسے دیکھ کر آصف زرداری کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔عمران خان کا کہنا کہ امریکہ کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان مستحکم ہو ، اسی لیے بیرونی سازش کےتحت یہ امپورٹڈحکومت ہم پرمسلط ہوئی ، ڈونلڈ لو کے ذریعے امریکہ نے دھمکی دی کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹادو ، قومی سلامتی کمیٹی میں مراسلہ دکھایا گیا ، صدر مملکت نے مراسلے سے متعلق خط لکھا ابھی تک کچھ نہیں ہوا ، 7 مارچ کو مراسلہ بھیجا جاتا ہے،8مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے ، اتحادیوں کو بھی اچانک یاد آ جاتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت بری ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ بہت شور مچایا جاتا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی کردی ، کانپیں ٹانگنے والے بلاول نے ہماری حکومت میں مہنگائی کیخلاف مارچ کیا ، امپورٹڈحکومت نے ڈیڑھ ماہ میں آٹے اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان پر پہنچادیں

، ان کے دور میں 400 ڈرون حملے ہوئے ، زراداری اور نواز شریف نے ایک بار بھی ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی ، ایک بار ان کے منہ سے نہیں نکلا یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ، اگرمیرا پیسہ باہر ہوتا تو کبھی ان کے سامنے ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہہ سکتا تھا۔سابق وزیر اعظم کہتے ہیں کہ یہ وہ فیصلے کرتے ہیں جس کا انہیں باہر سے حکم ملتا ہے ، کیا کبھی پہلے کسی نے ایک ہفتے میں پیٹرول 60 روپے مہنگا کیا؟ آئی ایم ایف ہمیں بھی پیٹرول مہنگا کرنے کا کہتا تھا لیکن ہم نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کیے ، میں امپورٹڈ حکومت کی طرح سپر پاور کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والا نہیں ، آئی ایم ایف نے ہمیں بھی کہا کہ قیمتیں بڑھادو ہم نےآئی ایم ایف کے دباؤ کو برداشت کیا لیکن عوام پر بوجھ نہیں ڈالا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں