پی ٹی آئی کا وزراء ، ججز، اعلیٰ فوجی و سول افسران کے پٹرول الاؤنسز معطل کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے وزراء ، ججز ، اعلیٰ فوجی و سول افسران کے پٹرول الاؤنسز معطل کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کے وزراء ، جج صاحبان ، اعلیٰ فوجی اور سول افسران قوم سے یکجہتی دیکھائیں اور اپنے پٹرول الاؤنسز معطل کر دیں ، جب تک قیمتیں واپس نہیں آتیں اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگ عوام کی تکلیف میں حصہ دار بنیں ، علامتی طور پر عوام کے ساتھ نظر

تو آئیں لیکن آپ کے دورے ہی ختم نہیں ہو رہے۔علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف کراچی کے شہریوں کو ایم کیو ایم دفاتر کے سامنے احتجاج کا مشورہ دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری پٹرول پمپوں کو نقصان کیوں پہنچا رہے ہیں؟ خالد مقبول صدیقی، امین الحق اور فیصل کو مفت پٹرول کی قیمت کراچی اور پاکستان کے عوام کو دینی پڑ رہی ہے ، آپ کو ایم کیو ایم کے دفاتر کے سامنے احتجاج کرنا چاہئے جن کی مدد اور حمایت سے مہنگائی کا یہ طوفان آیا۔خیال رہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے پر کراچی میں مشتعل افراد نے متعدد پیٹرول پمپوں پر دھاوا بول دیا ، مشتعل مظاہرین نے پیٹرول پمپ پر پتھراؤ کیا ، ٹائروں اور دیگر اشیاء کو نذر آتش کرکے بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا ، مختلف علاقوں میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے اور عدم فراہمی پر مشتعل افراد نے ٹائروں سمیت دیگر اشیاء کو نذر آتش کر کے ٹریفک معطل کر دیا ، احتجاج کرتے ہوئے مشتعل افراد نے توڑْ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا ، سخی حسن چورنگی سرینہ موبائل مارکیٹ کے قریب مشتعل افراد نے پیٹرول پمپ پر پتھراؤ کیا جس سے ڈسپینسر یونٹس کو نقصان پہنچا ۔اس کے علاوہ مشتعل

مظاہرین نے سڑک پر ٹائروں اور دیگر اشیاء کو نذر آتش کرکے بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا ، اسی طرح پیٹرول کی قیمتوں کے اضافے پر پرانی سبزی منڈی پر قائم پیٹرول پمپ پر بھی مشتعل افراد نے دھاوا بول کر پتھراؤ کردیا ، احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی۔ادھر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے لاہور

ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے ، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات میں 60 روپے تک اضافہ کیا گیا ، ہوشربا اضافے سے مہنگائی کا طوفان آجائے گا ، پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا ہر اشیائے ضروریہ پر اثر پڑے گا، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کے اضافے کو فوری کالعدم قرار دے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عوام پر پٹرولیم مصنوعات مزید 30 روپے مہنگا کرکے مہنگائی کا بم گرا دیا ہے ، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت نے ڈبل سینچری مکمل کر لی ، حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 30 روپے اضافے کا اعلان کردیا اور اس اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 204 روپے 15پیسے ہو گئی جب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت بھی 181 روپے 94 پیسے مقرر کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں