تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب میں دوبارہ کنٹینرز کی پکڑدھکڑ شروع

لاہور( نیوز ڈیسک)تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب میں دوبارہ کنٹینرز کی پکڑدھکڑ شروع ہوگئی ہے۔ایک ہزار سے زائد لوڈ کنٹینرز دوبارہ پکڑ لیے گئے ہیں جبکہ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے حکومت کو الٹی میٹم دیدیا ہے۔کنٹینزر کی دوبارہ پکڑ دھکڑ کے خلاف آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے وفاقی وزیر داخلہ اور پنجاب حکومت سے پکڑے گئے کنٹینرز فوری طور پر چھوڑنے کا مطالب کرتے ہوئے ڈیڈ لائن دے دی ہے۔آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے کہا ہے کہ اگر 24 گھنٹے

کے اندر تحویل میں لیے گئے کنٹینرز نہ چھوڑے گئے تو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج سمیت حکومت کے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرینگے۔دوسری جانب وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی تیاریوں کا اعلان ہوتے ہی گرفتاریاں کریں گے۔سماء نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے تحریک انصاف کے مارچ سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کر لیے ہیں۔مستقبل میں لانگ مارچ کو روکنے کے لیے 5 رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا ہے کہ لارنگ مارچ کی تیاریوں کا اعلان ہوتے ہی گرفتاریاں کریں گے اور گرفتاریوں کے لیے لانگ مارچ کا انتظار نہیں کریں گے۔تحریک انصاف والوں کو پہلے سے درج مقدمات میں گرفتار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اگر گللگت سے باہر نکلے تو گرفتار کر لیں گے کیونکہ جرائم پیشہ گروہ وفاق پر چڑھائی کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی ٹیلیفونک موجود ہے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ اگر کابینہ نے اجازت دی تو بغاوت کے مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کو ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کرنے پر خبردارکیا۔نہوں نے کہا کہ جب بھی لانگ مارچ کا اعلان ہوگا اس سے نمٹیں گے،

پی ٹی آئی والوں کو آنے دیں دیکھتا ہوں کیسے رکاوٹیں ہٹاتے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کو ایک اور لانگ مارچ کے اعلان کے خلاف خبردار کرتا ہوں،جب بھی لانگ مارچ کا اعلان ہوگا اس سے نمٹیں گے، پی ٹی آئی والوں کو آنے دیں دیکھتا ہوں کیسے رکاوٹیں ہٹاتے ہیں۔اس سے قبل وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے ٹویٹر پر اپنےردعمل میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان نے سرکاری وسائل کو استعمال کیا، قوم کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے وفاق پر حملہ کیا، ڈی چوک پر تین چار ہزار لوگ جمع ہوچکے تھے، ان کا تعلق ایک ہی صوبے سے تھا۔ مسلح افراد کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی؛ یہ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں