رواں سال سرکاری حج اسکیم کے اخراجات کا اعلان، حکومت نے ہر حاجی کو سبسڈی دینے کی منظوری دیدی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے رواں سال سرکاری حج اسکیم کے اخراجات کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی کابینہ نے ہر حاجی کو ڈیڑھ لاکھ روپے سبسڈی دینے کی منظوری دی ہے، حج اخراجات شمالی ریجن کیلئے 8 لاکھ 51 ہزار تک رکھے گئے ہیں ،جنوبی ریجن کیلئے حج اخراجات 8 لاکھ 60 ہزارتک رکھے گئے ہیں،پاکستان اور سعودیہ لازمی اخراجات 52 فیصد ہیں، فضائی کرایہ 21 فیصد اور دیگر اخراجات 27 فیصد ہیں،کابینہ سے منظوری کے بعد حج پیکج کا اعلان کیا، مہنگا حج پیکج ہمیں ورثے میں ملا ہے،

اگر سابق پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو یہ اخراجات 11 لاکھ تک جاسکتے تھے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی عبدالشکور نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ہر حاجی کو ڈیڑھ لاکھ روپے سبسڈی دینے کی منظوری دی ہے، حج اخراجات شمالی ریجن کیلئے 8 لاکھ 51 ہزار تک رکھے گئے ہیں ،جنوبی ریجن کیلئے حج اخراجات 8 لاکھ 60 ہزارتک رکھے گئے ہیں۔وزیر مذہبی نے کہا کہ پاکستان اور سعودیہ لازمی اخراجات 52 فیصد ہیں، فضائی کرایہ 21 فیصد اور دیگر اخراجات 27 فیصد ہیں،کابینہ سے منظوری کے بعد حج پیکج کا اعلان کیا، مہنگا حج پیکج ہمیں ورثے میں ملا ہے، اگر سابق پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو یہ اخراجات 11 لاکھ تک جاسکتے تھے۔مفتی عبدالشکور نے کہا کہ دو سال کے وقفے کے بعد محدود کوٹے کے ساتھ حج کی اجازت دی ہے، پاکستان کا کل کوٹہ ایک لاکھ 80 ہزار سیکم کرکے 81 ہزار 210 کیا گیا ہے، اس سال حج غیر معمولی حالات میں انعقاد پذیر ہے،کورونا کے باعث حج کوٹہ کم ہوا ہے، حج تاخیر اور اخراجات پرسعودی حکام بھی پریشان ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مکہ و مدینہ میں ہوٹل، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ لیا ہے، 2600 ریال کی گزشتہ دو سال میں فی بیڈ رہائش کو 2100 ریال پرلائے ہیں، تین وقت کی خوراک میں 27 ریال پاکستانی عازمین سے وصول کیے جائیں گے، 2012 کے بعد اس بار حرم کے قریب عازمین کو ٹھہرا رہے ہیں، حج کاکام ہم نے 6 ماہ کے بجائے ایک ماہ میں مکمل کیے ہیں، 80 فیصد عازمین کی ورکشاپس کا عمل ہم مکمل کرچکے ہیں، روڈ ٹو مکہ کے سلسلے میں پہلی فلائٹ 6 جون کو روانہ ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں