اسرائیل جانے والوں کو سابق حکومت میں کیوں اجازت دی گئی؟اس کا حساب دیں،خواجہ آصف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمرانی دور میں اسرائیلی طیارہ پاکستان آنے اور ایک چہیتے کے جانے کا چرچا رہا، اسرائیل جانے والوں کو سابق حکومت میں کیوں اجازت دی گئی؟اس کا حساب دیں، ہم اقتدار کیلئے نظریات کا سودا نہیں کرتے۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ہماری فلسطین اور کشمیر کاز کے ساتھ وابستگی ابدی ہے، اسرائیل جانے والوں کو سابق حکومت میں کیوں اجازت دی گئی؟عمرانی دور میں اسرائیلی طیارہ پاکستان آنے اور ایک چہیتے کا اسرائیل جانے کا چرچا رہا، اس کا حساب دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فلسطین اور کشمیر کاز کے ساتھ کمٹمنٹ لازوال ہے اور کسی ابن الوقت کی طرح اقتدار کیلئے قومی تشخص اور نظریات کا سودا نہیں کرتے، دوستی اور دشمنی نبھانے والے ہیں۔اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ فتنہ خان پورے پاکستان میں واحد شخص تم ہو جس کا اسرائیل سے براہ راست خاندانی واسطہ ہے۔ایک مسلمان پاکستانی کے مقابلے میں زیک گولڈ اسمتھ کی الیکشن کیمپئین کرنے والے میں تمہیں وارننگ دیتی ہوں جھوٹ بولنے سے باز آ جاؤ ورنہ منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جھوٹے خط، جھوٹی عالمی سازش، قتل کا جھوٹا ڈرامہ فیل ہونے کے بعد تاریخ کے سب سے ناکام لانگ مارچ کے بعد اب اسرائیل وفد بھیجے جانے کی انتشار خان کی ایک اور دو نمبری! دوسری جانب وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے اہم پالیسی بیان دیا کہ فلسطین کی حمایت میں پاکستانی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی، فلسطین پر پاکستان کی ریاستی پالیسی واضح اور بابائے قوم قائداعظم کے فرامین پر مبنی ہے، دورے میں شامل پی ٹی وی کے اینکر کو ٹرمینیٹ اور آف ائیر کردیا گیا ہے ، مذکورہ اینکر اپنی ذاتی حیثیت میں دورے پر گیا تھا، مقبوضہ فلسطین اور غیرقانونی

طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی ہرممکن حمایت جاری رکھیں گے، سستی سیاسی شہرت کے لئے ہر منفی اقدام کرنے والے کسی قومی مفاد کا تو خیال کریں، مقبوضہ فلسطین اور جموں وکشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر دیرینہ ترین امور ہیں جن کا حل عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، ان دونوں مسائل کے منصفانہ حل تک دنیا میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کے استصواب رائے کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں،

دنیا دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کا ضامن تصور کرتی ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں، بیت المقدس دارالحکومت اور جغرافیائی وحدت کی حامل فلسطینی ریاست کا وعدہ پورا کیا جائے، پاکستان کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے منافی کوئی پالیسی یا اقدام نہیں ہوسکتا، پاکستان مسئلہ فلسطین اور اسرائیل سے متعلق اپنے روایتی اور اصولی موقف پر سختی سے کاربند ہے، وزارت خارجہ واضح کرچکی ہےکہ پاکستان سے کوئی وفد اسرائیل نہیں گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں