وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مارچ میں کیا کچھ استعمال کرنے کا اعلان کردیا؟تہلکہ خیز خبر

پشاور ( نیوز ڈیسک ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ پہلے مارچ میں غیر مسلح گئے تھے، اب عمران خان اجازت دیں تومارچ میں خیبرپختونخوا کی فورس استعمال کرونگا۔پشاور انصاف لائزر فورم کی تقریب سے خطاب میں کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ جا رہا ہوں، جو کارکن شہید و زخمی ہوئے حکومت کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرینگے۔انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے ہمارے ساتھ جو کیا کارروائی کریں گے ،قانونی ٹیم سے مشاور ت کی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ راناثنااللہ کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف مینٹل کیس ہے، بشام میں وہ اپنے کپڑے فروخت کرنا چاہتا تھا، چوری کے کپڑے کوئی نہیں خریدتا، وزیراعظم کو الٹی میٹم دے رہا ہوں کہ کے پی کا حق چھین کر رہیں گے۔دوسری جانب اکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے پروٹیکشن دینے پرلانگ مارچ کی نئی حکمت عملی بنائیں گے، اگرسپریم کورٹ نے پروٹیکشن نہ دی پھر پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے، سپریم کورٹ رولنگ دے ہمیں کس قانون کے تحت روک کر انتشار پھیلایا گیا،امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے پشاور میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے، آپ نے ملک بچانے کو جہاد سمجھنا ہے، ملک فیصلہ کن موڑ پر کھڑاہے، جمہوریت کی اخلاقیات ہوتی ہیں، پاکستان میں سب حکومتیں کرپشن کے الزامات کے تحت گئیں، ہماری حکومت پہلی حکومت ہے جس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، 2022 میں ملک کی گروتھ 6 فیصد تھی، ہماری حکومت میں ایکسپورٹ ریکارڈ پر گئیں، ہماری حکومت میں ایکسپورٹ ریکارڈ پر گئیں، کورونا کے حوالے سے سب سے بہتر اقدامات ہم نے کئے،

کورونا کے بعد سب سے زیادہ روز گار ہماری حکومت نے دی، پاکستان کورونا کے خلاف اقدامات کرنے میں ٹاپ 5 ملکوں میں تھا، ایک سازش کے تحت پی ٹی آئی کی حکومت گرائی گئی۔عمران خان نے کہا کہ جومراسلہ امریکا سے آیا اس میں واضح طور پر دھمکی دی گئی ہے، ڈونلڈ لو ہمیں دھمکی دیتا ہے عمران خان کو نہیں ہٹاؤ گے تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کبھی پاکستان کی سڑکوں پر اس طرح عوام نہیں نکلے، میں کسی سے کوئی جنگ نہیں چاہتا، آج ہم کھڑے نہ ہوئے تو آئندہ نسلیں معاف نہیں کریں گی، 62 سال پاکستان ملٹری ڈکٹیشن
اور 2 خاندانوں کے ہاتھوں میں چلا ہے، میرا دور حکومت صرف ساڑھے3 سال چلا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہندوستان نے روس سے کم قیمت پر تیل خریدا، ہندوستان نے کبھی کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کی، ہندوستان کبھی اجازت دےگا کہ امریکا جا کر وہاں ڈرون حملہ کرے؟ ہمارا سب سے بڑا دہشتگرد لندن میں بیٹھا ہے، ہم نے امریکہ کی جنگ لڑی انہوں نے شکریہ تک ہمیں نہیں کہا، روس ہمیں 30 فیصد کم قیمت پر تیل دینے کیلئے تیار تھا، ہم نے 30 روپے ڈیزل اور پٹرول کی قیمت بڑھائی، آپ عوام کیلئے نہیں کسی اور کو خوش کرنے

کیلئے فیصلے کرتے ہیں، الیکشن کرانے سے آپ ڈرتے ہیں،عوام میں آپ نہیں جا سکتے، شریف خاندان مافیا ہے، ان کا سپریم کورٹ نے سیسیلین مافیا کا نام ٹھیک رکھا ہے، بےنظیر کی انہوں نے تصویریں پھینکی تھیں، انہوں نے لوگوں کو مارا، 35 ہزار شیلنگ کی، انہوں نے ایسے شیل استعمال کئے جو دہشتگروں کیلئے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرغی کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہے جب سے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بنا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ غیرآئینی ہے، سپریم کورٹ حمزہ ککڑی کو ہٹانے کی رولنگ دے، جب تک قانون کی بالادستی

نہیں ہوگی ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا، جو ملک طاقت ور مجرموں کو کٹہرے میں لے آتا ہے وہ ترقی کر جاتا ہے،پہلے ہم تیاری کے بغیر گئے تھے،اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے، میں اس امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کروں گا، ایک وزیراعلیٰ کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز کو فوری طور پر ہٹایا جائے، پاکستان میں فوری فری اینڈ فیئر الیکشن کرائے جائیں، پاکستان میں فوری طور پرصاف شفاف الیکشن کرائے جائیں۔عمران خان نے کہا کہ میں آج سپریم کورٹ کو کہہ رہا ہوں کہ رولنگ دیں ہمیں کس قانون کے تحت روکا گیا اور انتشار پھیلایا گیا،ہم جب دوبارہ لانگ مارچ کریں گے تو کیا سپریم کورٹ اجازت دے گا؟ میں نے لوگوں کو لانگ ما رچ کی تاریخ دینی ہے،میں سب کے سامنے کہتا ہوں کہ اگر سپریم کورٹ نے پروٹیکشن نہ دی پھرپوری تیاری کے ساتھ جائیں گے، امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں