پٹرولیم قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں مل سکتا، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پٹرولیم قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں مل سکتا، گزشتہ حکومت کے تیل کی قیمت کو فکس کرنے سے مہنگائی بڑھی،30 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد بھی حکومت پٹرولیم پر56 روپے فی لیٹر سبسڈی دے رہی ہے، تیل کی قیمت بڑھانا مشکل فیصلہ ہے۔ انہوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مہنگائی کا سامنا ہے، گزشتہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکے ہیں،

عوام پر کچھ نا کچھ بوجھ ڈالنا نا گزیر ہے، پٹرول پر سبسڈی کا امیر اور غریب طبقہ دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں، پٹرولیم قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں مل سکتا۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج رات سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کر دیا جائے گا، لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 30 روپے اضافہ ہوگا، پٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 179.86روپے ہوگی، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12بجے سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت پٹرولیم پر فی لیٹر 56 روپے سبسڈی دے رہی ہے، وزیراعظم نے معاشی صورتحال کے پیش نظر سخت فیصلہ لیا ہے، اس وقت ہمارے لیے ریاست کا مفاد عزیز ہے، آئی ایم ایف سے بات چیت میں مثبت پیشرفت جاری ہے۔ واضح رہے آئی ایم ایف نے قرض قسط کیلئے تیل اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے تیل اور بجلی پر سبسڈی کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف نے شرح سود میں اضافہ کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان طے شدہ پالیسی سے انحراف کیا گیا، پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں