عوام پر کچھ نا کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر تھا، قیمتوں میں فوری اضافے کے حوالے سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا بیان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عوام پر کچھ نا کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر تھا، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان کر چکے، پٹرول پر سبسڈی سے امیر اور غریب دونوں فائدہ اٹھا ہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں اس فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان ہو گا۔ واضح رہے کہ حکومت نے عوام پر

مہنگائی کا ایٹم بم گرا دیا، پٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں آج رات سے ہی 30 روپے اضافے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج رات سے ہی اضافے کا اعلان کر دیا۔وزیر خزانہ نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے اضافے کا اعلان کیا، فیصلے کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔ حکومت کے فیصلے کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 179 روپے 86 پیسے، لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 148 روپے 31 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 174 روپے 15 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 155 روپے 56 پیسے ہو گئی۔ اس سے قبل جمعرات کواپنی ٹویٹس میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ وہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد دوحہ سے واپس پہنچ گئے ہیں، گزشتہ ہفتہ میں ہمارے وفد کی آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ مفید اورتعمیری گفتگو ہوئی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مذاکرات میں فروری 2022 میں ایندھن پرسبسڈی دینے سمیت مالی سال 2022کے دوران ہونے والے خساروں پربھی گفتگو ہوئی۔ ہم نے مہنگائی کی بلندشرح، زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی اورحسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں کمی کے تناظرمیں مالی سال 2023 کے اہداف کابھی جائزہ لیا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ہمیں سخت زری پالیسی اورمالیاتی استحکام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔اسی پس منظرمیں حکومت مالی سال 2023 میں بجٹ خسارہ کو کم کرنے میں پرعزم ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے ایندھن اور بجلی پرسبسڈیز واپس لینے کی اہمیت

اجاگرکی جو گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کے برخلاف دی تھیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے دوبارہ جائزہ اورپاکستان کوپائیداربڑھوتری کی راہ پرگامزن کرنے میں پرعزم ہے۔ دریں اثناء پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کے بعد وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایاگیاہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی قیادت میں پاکستان کی ٹیم نے دوحہ میں آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ساتویں جائزے پر مذاکرات کئے۔ ہفتہ بھر جاری رہنے والی مشاورت میں مالی سال 2022 کے لیے زری اور مالیاتی صورتحال اور مالی سال 2023

کے لیے تجویز کردہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔آئی ایم ایف نے حکومتی اقدامات بالخصوص بجلی اور ایندھن کی سبسڈی اور دیگر خساروں سے پیدا ہونے والی مالیاتی اورحسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مشاورت میں کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارے اور اصلاحات کی نشاندہی کی گئی۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے ایندھن اور بجلی کی سبسڈی کو واپس لینے کی اہمیت پر زور دیا، جو گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دی تھیں۔بیان میں کہاگیاہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے اور پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے پرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں