جتھے کا سربراہ سن لے اس جتھے کی ڈکٹیشن نہیں چلے گی،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جتھے کا سربراہ سن لے اس جتھے کی ڈکٹیشن نہیں چلے گی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں،میں بات چیت کے لیے کمیٹی بنا سکتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی جماعت کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہین دی جا سکتی۔انہوں نے کہا ہے کہ کسی جتھے یا جماعت کو آئین سے بغاوت کا حق نہین دیا جا سکتا،اور نا ہی پارلیمان پر چڑھائی کی اجازت دی جا سکتی ہے،تمام ادارے پارلیمان سے پروان چڑھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے اور تمام اداروں نے پارلیمنٹ کی کوک سے جنم لیا ہے،گزشتہ ساڑھے تین سال میں گالم گلوچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم کا بل پاس کرکے شفاف انتخابات کی بنیاد رکھ دی ، 10 اپریل 2022 تاریخ ساز دن تھا ، پہلی بارآئین وقانون کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد کامیاب ہوئی ، آئین کے مطابق عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور آئینی حکومت وجود میں آئی ، کیا کسی جماعت کو بدامنی پھیلانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے، تمام اداروں نے پارلیمنٹ کی کوکھ سے جنم لیا ، تمام ادارے پارلیمان سے پروان چڑھتے ہیں ، سابق حکومت نے معیشت کابیڑہ غرق کردیا ، اب جب ہم معیشت درست کررہےہیں تو جلاو گھیراو کا پیغام دیاگیا ، کیا دوبارہ دھرنوں اورفتنہ وفسادکی ضرورت ہے؟ تاریخ کو اگر دوبارہ دہرانے دیا گیا تو ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ، ہم محنت کرکے اس معیشت کو بچانا چاہتے ہیں ، ملک میں ہچکولے کھاتی معیشت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ روز لاہورسے پی ٹی آئی رکن سے اسلحہ برآمد کیا گیا وہ کدھر لے جایا جا رہا تھا ،

لاہور میں پولیس اہلکار پر گولی چلائی گئی ، عدلیہ اوراداروں کوکس طرح بدنام کیاجارہاہے ، گزشتہ روز سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہم میں سےکسی نےایک لفظ نہیں کہا ، عدلیہ حق میں فیصلہ دے تو یہ خوش نہ دے تو تنقید کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جومعاہدےستمبر 2014 میں ہونے تھے وہ دھرنے کی وجہ سے مؤخر ہوئے ، اتحادیوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیایہ ایوان اس طرح کاموں کی اجازت دےسکتی ہے ، ہم نے ماضی کو نہیں دہرانا ،ملک کو معاشی طور پر آگے لے کر جانا ہے ، ہم سیاست دان ہیں ،تلخیاں ہوتی ہیں،تحمل کا مظاہرہ کرناچاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں